×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نکاح / آئمہ اربعہ کے نزدیک کتابی عورت سے نکاح کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-09-18 01:57 PM | مناظر:2211
- Aa +

ازراہِ کرم چاروں مذاہب میں مسلمان کا کتابیہ عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے میں وضاحت کریں.

حكم نكاح الكتابية على المذاهب الأربعة

جواب

حامدا و مصلیا

امابعد۔

کتابیہ عورت کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے چاہے وہ یہودیہ ہو یا نصرانیہ ، جیساکہ سورۂ مائدہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :  ﴿و طعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم وطعامکم حل لھم والمحصنات من المؤمنات والمحصنات من الذی اوتوا الکتاب من قبلکم﴾  (ترجمہ)  ’’جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے ان کا کھانا تمہارے لئے اورتمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے اورمومنات میں سے پاکیزہ عورتیں اور ان لوگوں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی جائز ہے ‘‘۔ اور یہ پہلے اور بعد کے جمہور علماء کا مذہب ہے ان میں ائمۂ اربعہ(ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ ) بھی ہیں اور باقی علماء کا بھی یہی قول ہے ۔لیکن حضرت ابنِ عمرؓ نے نصرانیہ کے نکاح کو مکروہ قراردیا ہے وہ فرماتے ہیں :  ’’میں اس سے بڑا شرک نہیں جانتا جو یہ کہتی ہے کہ اس کا رب عیسیٰ بن مریم ہے ‘‘۔ اورمیں تو آپ کو اس چیز کی وصیت کروں گا جس کی وصیت آپنے اس وقت کی جب انہوں نے ارشاد فرمایا کہ کن چیزوں کی وجہ سے عورت کے ساتھ نکاح کیا جاتا ہے ؟ تو ارشاد فرمایا:  چارچیزوں کے ساتھ عورت کے ساتھ نکاح کیا جاتا ہے : اس کے مال کی وجہ سے ۔۔۔اور اس کے حسب نسب کی وجہ سے ۔۔۔ اور اس کے حسن وجمال کی وجہ سے ۔۔۔اور اس کے دین کی وجہ سے ۔۔۔پس دین والی کو ترجیح دے تیرے ہاتھ خاک آلود ہو‘‘۔ (رواہ الشیخان من حدیث ابی ہریرۃؓ) اور یہ بات آپ سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ یہودیہ اس کے برخلاف ہوتی ہے ، لہٰذا آپ کسی ایسی نیک مسلمان عورت کو تلاش کریں جس کی وجہ سے آپ کو اپنے مال ، اولاد اور بستر کا اندیشہ نہ ہو۔ اور یہ جائز ہے اگر آپ کو اپنے دین میں کسی نقص وشر کااور آپ کے اوپر اس کے علو ارتفاع کا اندیشہ نہ ہو(جیسا کہ بعض کتابیہ عورتوں کا کفار ممالک کی طرف آنے والے مہاجرین کے ساتھ ہوتا ہے ) ۔ اللہ تعالیٰ سب ا س چیز کی توفیق دے جس میں سب کی خیر ہو ۔ واللہ أعلم بالصواب۔

آپکا بھائی

خالد المصلح

23/ 09 /1424 هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں