فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نماز / نمازِ حاجت

نمازِ حاجت

تاریخ شائع کریں : 2016-09-23 | مناظر : 2192
- Aa +

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اما بعد۔۔۔ جنابِ من ! کیا کوئی ایسی نماز ہے جسے نمازِحاجت کہتے ہیں ؟اور ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ اور عدد کے اعتبار سے اسے کس طرح ادا کیا جاتا ہے ؟

صلاة الحاجة

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حامدا و مصلیا

امابعد۔

نمازِحاجت کے بارے میں حدیث وارد ہوئی ہے جسے امام ترمذیؒ نے (۴۶۷) میں عبد اللہ بن ابی اوفیؓسے روایت کی ہے کہ آپنے ارشاد فرمایا:جسے اللہ تعالیٰ سے یا بنی آدم میں سے کسی سے کوئی حاجت درپیش ہو، تو وہ اچھی طرح وضو کرے ، پھر دو رکعت(اپنی حاجت کی نیت سے ) نمازِحاجت پڑھے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرے اور رسول اللہ پر صلوٰۃ و سلام بھیجے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے:

''لا الٰہ الا اللہ الحلیم الکریم، سبحان اللہ رب العرش العظیم۔ الحمد للہ رب العالمین ۔ أسئلک موجبات رحمتک ، وعزائم مغفرتک ، والعصمۃ من کل ذنب ، والغنیمۃ من کل برّ، والسلامۃ من کل اثم، لا تدع لی ذ نبا الا غفرتہ ولا ھمّا الا فرّجتہ ولا حاجۃ ھی لک رضاالا قضیتھا یا أرحم الراحمین''۔

(ترجمہ)

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بڑا ہی بردبار کرم کرنے والا ہے ۔ پاک ہے اللہ جو عرشِ عظیم کا مالک ہے ۔ سب تعریفیں رب العالمین کے لئے ہیں ۔ (اے اللہ!) میں تجھ سے سوا ل کرتا ہوں تیری رحمت کے (واجب کردینے والے )اسباب کا، اور تیری مغفرت کو پختہ کردینے والی خصلتوں کا، اور ہر گناہ سے حفاظت کا، اور ہر نکو کاری کی نعمت کا، اور ہر نافرمانی سے سلامتی کا۔ اے اللہ !  تو میرے کسی گناہ بغیر بخشے مت چھوڑ، اور میری کسی فکرو پریشانی کو بغیردورکئے مت چھوڑ، اور میری کسی ایسی حاجت کو جو تیری مرضی کے موافق ہو، بغیر پورا کئے مت چھوڑ، اے سب سے بڑے رحم کرنے والے ۔

اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ:  یہ ایک غریب حدیث ہے اور اس کی سند میں محدثین نے کلام کیا ہے ، اور امام نوویؒ نے بھی اس حدیث کو ذکر کیاہے اور امام ترمذیؒ کی تضعیف کو نقل کیا ہے اور ان کی گرفت نہیں کی۔

لیکن جمہور فقہاء نے اس نماز کو مستحب قراردیا ہے ، البتہ رکعات کی تعداد میں ان کا اختلاف ہے ، جمہور کے نزدیک دو رکعتیں ہیں ، اور احناف کے نزدیک چار رکعتیں ، لیکن جہاں تک مجھے سمجھ آرہاہے تو میں یہ کہتا ہوں کہ اس کے پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں، اس لئے کسی حاجت و ضرورت کے لئے اس نماز کے بارے میں متعدد احادیث میں وارد ہوئی ہیں ۔

ان احادیث میں سے ایک مرفوع حدیث کو امام احمدؒ نے حضرت ابو درداء ؓ سے نقل کی ہے کہ :’’جس نے اچھی طرح مکمل وضو کیا ، پھر دورکعتیں پڑھیں ، اور ان رکعتوں کو پورا کرنے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے جو مانگے گا تو اللہ تعالیٰ وہ چیز یا جلدی دے دے گا یا پھر تھوڑی تاخیر سے ‘‘۔

ان احادیث میں سے ایک حدیث کو امام احمدؒ اور امام ابن ماجہ ؒ نے عثمان بن حنیف سے نقل کی ہے جس میں ایک مصیبت زدہ آدمی کا قصہ ہے۔ اور اس حدیث میں یہی ہے کہ فرشتے نے اس آدمی سے کہا کہ وہ اچھی طرح وضو کرے اور پھر دورکعت نماز پڑھ کر دعا مانگے ۔

اور ابو بکر بن ابی خیثمہ نے اپنی تاریخ میں اس زیادتی کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ :’’اگر اسے کوئی حاجت درپیش ہو تو وہ اسی طرح کرے‘‘۔

ان تما م احادیث میں (بظاہر ) تو محدثین نے کلام کیاہے لیکن یہ ساری کی ساری احادیث کسی حاجت وضرورت کے لئے نمازِ حاجت کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں ، اور شاید یہی وہ مستند بات ہے جس کی طرف جمہور علماء نے اس نماز کی مشروعیت کے قول کو لیا ہے ۔ واللہ أعلم بالصواب۔

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

25 / 10 /1427 

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں