فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نماز / امام کی نماز نقل کرنے کے لئے عورتوں کی نمازگاہ میں سکرین رکھنے کا حکم

امام کی نماز نقل کرنے کے لئے عورتوں کی نمازگاہ میں سکرین رکھنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2016-09-23 | مناظر : 1255
- Aa +

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

اما بعد۔

جنابِ من! امام کی نماز پیش کرنے کے لئے عورتوں کی نماز گاہ میں ان کے سامنے معلّقہ سکرین کا کیا حکم ہے ، جن میں عورتیں امامِ مسجد اورباقی نمازیوں کو ایسی دیکھتی ہیں کہ گویا وہ بھی ان سب کے ساتھ ہیں ، اوراس بارے میں آپ کااپنا کیا نظریہ ہے؟

حكم وضع شاشات في مصلى النساء لنقل صلاة الإمام

 

حامدا و مصلیا

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

امابعد۔

اس میں ان عورتوں کے لئے نماز سے غفلت ہے ، خاص طور پر جب وہ سکرین ایسی بلند جگہ پر ہوں کہ نظریں ان کی طرف اٹھتی ہوں ، اور اس کے بارے میں نہی وارد ہوئی ہے ، جیسا کہ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایاکہ:  ’’لوگوں کو نماز میں دعا کے وقت آسمان کی نظر اٹھانے سے رکنا چاہئے ورنہ ا ن کی آنکھیں اچک لی جائیں گی‘‘ (أخرجہ مسلم: ۴۲۹) لیکن متبابعت میں آواز سننے پر اکتفاء کر سکتی ہیں ، کہ اس طرح کی چیزوں کو ضرورت کے تحت رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ واللہ أعلم بالصواب۔

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

15 /10 /1427هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں