فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

طھارت / حیض کی مدت میں آنے والی پیلاہٹ یا گدلے پن کا کیا حکم ہے ؟

حیض کی مدت میں آنے والی پیلاہٹ یا گدلے پن کا کیا حکم ہے ؟

تاریخ شائع کریں : 2016-10-14 | مناظر : 1273
- Aa +

حیض کی مدت میں آنے والی پیلاہٹ یا گدلے پن کا کیا حکم ہے ؟

ما هو حكم الصفرة والكدرة في زمن الحيض؟

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اس مسئلے میں علمائے کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ واللہ أعلم بہتر قول تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پیلاہٹ اور گدلا پن مطلقاََ حیض نہیں ہیں ۔ جیسا کہ بخاری شریف میں ام عطیہ ؓ کی حدےٖث وارد ہے جس میں وہ فرماتی ہیں کہ:’’ہم پیلاہٹ اور گدلے پن کو کچھ بھی شمار نہیں کرتی تھیں‘‘۔

(1) صحيح البخاري : 326

اور ایک دوسری روایت جو ابوداؤد شریف میں منقول ہے اس میں تھوڑی سی زیادتی ہے جس میں وہ فرماتی ہیں کہ :’’ہم طہر کے بعد پیلاہٹ اور گدلے پن کو کچھ بھی شمار نہیں کرتی تھیں ‘‘۔
سنن أبي داود: 307
اور یہ زیادتی بعض اہل علم کے ہاں مقامِ تنقید ہے ۔

جبکہ صحیح قول یہی ہے کہ پیلاہٹ اور گدلا پن حیض نہیں ہے کیونکہ یہ اس گندگی میں شامل نہیں ہے جس کے بارے میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ)  ’’ یہ لوگ تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تم کہہ دو کہ وہ گندگی ہے پس تم [البقرة:222]عورتوں سے حیض کے وقت علیحدگی اختیار کرو‘‘۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں