×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نکاح / کیا بیوی کی تنخواہ شوہر کے لۓ جائز ہے

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-10-17 06:32 PM | مناظر:2689
- Aa +

میری بیوی ملازمہ ہے کیا میں اس کے مال میں سے کچھ لے سکتاہوں ؟

مرتب الزوجة هل هو للزوج

جواب

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

امابعد۔۔۔

عورت جو مال اپنی محنت سے کماتی ہے وہ اسی کا ہوتا ہے اس کے شوہر کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا مگر وہ جو عورت اس کو اپنی خوشی سے دے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے :(ترجمہ) ’’ اور ایک دوسرے کے مال کے باطل طریقے سے نہ کھاؤ‘‘۔

اور صحیح مسلم میں حضرت جابرؓ سے مرفوع روایت نقل ہے کہ :’’کس چیز کی وجہ سے تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال بغیر حق کے لے گا؟‘‘

اور اس کی بہت سے دلائل ہیں ۔ ہاں اگر تمہارے درمیان یہ طے ہوچکا ہے کہ آپ ان کو اجازت دیں گے کام کی اور وہ اس کے عوض آپ کو کچھ دیں گی تو پھر ٹھیک ہے اور اپنوں کے عقدِ نکاح میں کام کی کوئی شرط نہ لگائی ہو تو پھر جائز ہے بغیر کسی کراہت کے ۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

14/03/1425


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں