فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نکاح / بیوی کے سرینوں ساتھ مداعبت

بیوی کے سرینوں ساتھ مداعبت

تاریخ شائع کریں : 2016-10-17 | مناظر : 5346
- Aa +

کیا مرد کے لئے اپنی بیوی کے ساتھ اس کی سرینوں میں ہاتھ یا منہ یا آلۂ تناسل کے ساتھ مداعبت کرناجائز ہے بشرطیکہ پردۂ بکارت کو چھوئے نہ اور ادخال نہ کرے ؟

مداعبة أرداف الزوجة

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

امابعد۔۔۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (ترجمہ)  ’’تمہاری بیویاں تمہارے لئے کھتیاں ہیں تم اپنی کھیتی میں جہاں سے جی چاہے آؤ‘‘۔ عورت سے لطف حاصل کرنا جائز ہے چاہے جیسا بھی ہو لیکن جماع صرف فرج سے ہی ہوگا۔عورت کی رانوں کے درمیان استمتاع کرنا جائز ہے اور اس پر آپکی حدیث واردہے کہ آپیہودیوں کے بارے میں بتایا گیاکہ وہ حائضہ عورت سے جدائی اختیار کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کھانا پینا بھی چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ جماع کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں تو آپنے جب یہ سنا تو ارشاد فرمایا:’’سب کچھ کرو سوائے نکاح کے ‘‘۔اس حدیث کو امام مسلمؒ نے حماد بن سلمہ کے طریق سے حضرت ثابت بن انس ؓ سے نقل کی ہے ۔اور فقہائے مالکیہ ، شافعیہ اور حنابلہ کی ایک جماعت نے مرد کا عورتوں کے سرینوں سے دُبر کے بغیر استمتاع کرنے کے جواز کو ذکر کیا ہے ۔اور جس کے بارے میں آ پ نے پوچھا ہے کہ عورت کی سرینوں کو مس کرنا یا آلۂ تناسل کے ذریعے مباشرت کرنا کیسا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر دُبر کی طرف جانے کا اندیشہ نہ ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں لیکن پھر بھی یہ جائز نہیں ہے کیونکہ حرام میں مبتلا کرنے والی چیز بھی حرام ہوتی ہے ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

14/03/1425هـ

پچھلا موضوع
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں