×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / العقيدة / کیا قرآن پاک کو کافر کے ہاتھ میں چھوڑنا جائز ہے ؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-10-17 07:54 PM | مناظر:3015
- Aa +

محترم جناب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعض اوقات ہم ہسپتال میں عربی النسل مسیحی مریضوں کے پاس جاتے ہیں تو ہم انہیں اس حال میں دیکھتے ہیں کہ وہ قرآن پاک اٹھائے اس کی تلاوت کررہے ہوتے ہیں ، کیا ان لوگوں کی اس حالت کے سامنے ہم پر کچھ گناہ ہے ؟

هل يترك المصحف في يد الكافر؟

جواب

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اما بعد۔۔۔

کسی ظاہری مصلحت کے علاوہ قرآن پاک کو کفارکے ہاتھوں سے محفوظ رکھناواجب ہے۔ اگر کسی مسلمان کے فعل کے علاوہ قرآن پاک اس کے ہاتھوں میں چلا جائے جس کے ہاتھوں میں اس کا جانا حلال نہیں ہے جیسے کوئی کافر قرآن پاک کو خرید لے یا پھر کوئی ایسا شخص اسے دے دے جس نے اس کے لئے کچھ خرچ کیا ہوتو اس صورت میں جو شخص اس فعل میں سبب نہیں بنا اس پر کچھ گناہ نہیں ہے۔پھر ہم ایک اور چیز کی طرف متنبہ کرتے ہیں کہ شرعی تعبیر یہ کہے کہ کہا اسے نصاری کہا جائے جیسا کہ اللہ پاک نے انہیں قرآن پاک میں کہا ہے۔

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

9 /11/ 1428هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں