فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

العقيدة / کافروں کے ممالک میں سیر وسیاحت کرنا

کافروں کے ممالک میں سیر وسیاحت کرنا

تاریخ شائع کریں : 2016-10-17 | مناظر : 1303
- Aa +

محترم جناب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سیر وسیاحت کے لئے کفار کے ممالک میں سفر کرنا کیسا ہے؟

السیاحۃ فی بلاد الکفر

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اما بعد۔۔۔

اگر ضرورت نہ ہوتو کفار کے ممالک میں نہیں جانا چاہئے کیونکہ آپنے ارشاد فرمایا:’’میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان اقامت اختیار کرے‘‘ (رواہ ابوداؤد  ۲۶۴۵ والترمذی۱۶۰۴)اس روایت کے راوی اسماعیل ہیں جو قیس کے واسطہ سے جریر بن عبداللہ ؓ نقل کرتے ہیں اور صحیح قول کے مطابق یہ روایت مرسل ہے ۔

اسی روایت کی شاہدا یک دوسری روایت ہے جو امام ابوداؤد ؒ نے نقل فرمائی ہے یہ روایت سلیمان بن سمرہ کے واسطہ سے ہے جو سمرہ بن جندب ؓ سے نقل فرماتے ہیں اور سمرہ بن جندب ؓ نبی کریم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپنے ارشاد فرمایا: ’’جو مشرک سے ملاقات کرے یا ا س کے ساتھ رہائش پذیر ہو تو وہ اسی کی طرح ہے‘‘۔

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

22 /5 / 1427هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں