فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

العقيدة / قسمت اور خوبیوں کی پہچان کے لئے ستاروں پر اعتماد کرنے کا حکم

قسمت اور خوبیوں کی پہچان کے لئے ستاروں پر اعتماد کرنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2016-10-17 | مناظر : 2451
- Aa +

محترم جناب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ قسمت اور خوبیوں کی پہچان کے لئے ستاروں پر اعتماد کرنے کا کیا حکم ہے؟

حکم الاعتماد علی الابراج فی معرفۃ الصفات والحظوظ

حامداََ ومصلیا۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 اما بعد۔۔

ابراج عربی میں برج کی جمع ہے اور ستاروں سے یہاں مقصود سورج اور چاند کی منزلیں ہیں ۔ سورج اپنی منزل بارہ میں مکمل کرتا ہے جبکہ چاند اپنی منزل ایک ماہ میں مکمل کرتا ہے ۔ اور اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو متصف کیاہے، جس کی اللہ تعالیٰ نے سورۂ بروج میں قسم کھائی ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہےــ: (ترجمہ)  ’’اور بروج والے آسمان کی قسم‘‘۔

اور یہ بارہ برج یا ستارے ہیں ، زمانۂ قدیم سے لوگوں کا مشرق ومغرب میں اسی پر اتفاق ہے اور شاعر کے شعرمیں یہ اسی طرح جمع ہیں ۔
حمل الثور جوزہ السرطان           ورعی اللیث سنبل المیزان
وعین العقربقوس الجدی             و ملأ الدلو برکۃ الحیتان
اور لوگوں کی قسمت اور خوبیوں کو جاننے کے لئے ستاروں میں غوروفکر کرنے کا فعل باتفاق اہلِ علم حرام اور ناجائز ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

جیسا کہ امام احمد اور اہلِ سنن نے حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺنے ارشاد فرمایا:’’جس نے ستاروں سے علم حاصل کیا گویا اس نے جادوکا ایک شعبہ حاصل کیااور جس قدر وہ اس علم میں بڑھتا گیا اسی قدر وہ جادو میں بڑھتا گیا‘‘ اور اس میں وہ سب کچھ شامل ہے جو ستاروں کی گردش اور منازل سے اخذکیا جائے اور یہ وہ ستارے ہیں جو زمین پر پیش آنے والے حوادث اور لوگوں کی صفات سے متعلق علم اور معرفت رکھتے ہیں اور اس کے ناجائز ہونے پر یہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺنے اس عقیدے کو باطل قراردیا ہے کہ آسمانوں کی زمینی حادثات میں کوئی اثرنہیں ، پس آپﷺنے حدیبہ کے موقع پر بارش نازل ہوتے وقت جب صحابہ کرام ؓ کونماز پڑھائی توارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندوں میں سے بعض نے مجھ پر ایمان لاتے ہوئے صبح کی اور بعض نے کفر کی حالت میں صبح کی، پس جس نے کہا کہ ہم پر بارش اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے ہوئی ہے پس وہ تو مؤمن ہے اورستاروں کا انکار کرنے والا ہے اور جو یہ کہے کہ ہمیں فلاں فلاں قسم کے ستارے سے بارش حاصل ہوئی ہے پس وہ میر ا انکار کرنے والا ہے اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے ‘‘۔حدیثِ پاک میں ستاروں کی قسم سے مراد قسم کی تاثیر ہے چاہے وہ تاثیر کسی وجہ سے ہو یا ایجاد کی وجہ سے ہواور اسی اعتقاد میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ پیدا ہونے والے بچہ کی صفات میں کسی ایک متعین ستارے کی تاثیرہے اور یہ چیزیں غیب پر دلالت کرتی ہیں جبکہ غیب کا علم سوائے اللہ کی ذات کے کسی کے پاس نہیں ہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :(ترجمہ) ’’ کہہ دو کہ آسمانوں اور زمین میں غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں اور لوگوں کو تو یہ معلوم نہیں کہ انہیں کب زندہ کرکے اٹھایا جائے گا، تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچادئیے ہیں اور وہ ان کے سارے حالات کا احاطہ کئے ہوئے ہیں اور اس نے ہر چیز کی پوری طرح گنتی کر رکھی ہے ‘‘ (سورۂ جن)

پس اگر کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ وہ مستقبل کے بارے میں غیب کا علم رکھتا ہے چاہے وہ ایک لمحہ کے بعد ہی کا دعوی کرے تو وہ شخص خود بھی جھوٹا ہے اور اسے جھٹلایا بھی جائے گا کیونکہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایاہے ، اور اسی طرح ستاروں کی لوگوں کی صفات ستاروں کی انسانوں کی صفات میں کوئی عمل دخل نہیں ہے ، کہ کوئی ایسی دلیل ہو کہ جو شخص ’’برج حمل‘‘ میں پیدا ہو اس کی فلاں فلاں صفات ہیں اور جو شخص ’’برج اسد‘‘ سے ہو اس کی فلاں فلاں صفات ہیں۔پس یہ ایک ایسا دعوی ہے جس پر کوئی گواہ ہے اور نہ ہی کوئی دلیل ہے ۔ اس لئے مؤمن کے لئے واجب ہے کہ وہ ان سب سے اعراض کرتے ہوئے بچے کیونکہ یہ کوئی کھیل کود  یا بے کار و لہو یا آرام حاصل کرنے کا مسئلہ نہیں ہے جو مکروہ سے متعلق ہو بلکہ یہ مسئلہ اسے ایمان کی خرابی میں ڈالنے والا ہے ۔ پس یہ ایک خطرناک مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ ایمان اور کفر میں فرق کرنے والا ہے ، اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ ستارے کسی انسان کی صفات پیدا کرتے ہیں تو اس صورت میں یہ ایک بڑا کفر بن جاتا ہے کیونکہ اس کے اس عقیدے کے تحت وہ شخص اللہ کے علاوہ کسی اور غیراللہ کو کائنات میں اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیرفاعل بنا چکا ہے ۔ اور یہ ربوبیت میں شرکِ اکبر ہے ۔اور اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ ستارے بھی ان صفات کے پیدا ہونے میں سبب ہیں تو اس صورت میں شرکِ اصغر کہلائے گا ، مگر یہ فعل زنا ، سوداور والدین کی نافرمانی سے بھی بڑاہے کیونکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے حق سے متعلق ہے اور اس فعل سے شرکِ اکبرکی طرف قدم بڑھانا ہے ۔
اور اسی طرح ان ستاروں کی لوگوں کی صفات کی پہچان رکھنے کے بارے میں جھوٹا ہونا اس بات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہی ستارے کے تحت لوگوں کی ایک کثیر تعداد پیدا ہوتی ہے اور سب اپنی خِلقت ، اخلاق اور روحانی صفات کے اعتبارسے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ ’’حمل‘‘میں سخی بھی پیدا ہوتاہے اور بخیل بھی ، سخت مزاج بھی پیدا ہوتا ہے اورنرم مزاج بھی، غصہ والا بھی اور حلیم وبردبار بھی۔ پس ان پر اعتبار کرنا نجومیت اور کہانت کی ایک قسم ہے ۔اور یہ جھوٹ و فریب ہے اسی لئے لوگوں کی صفات کو پہچاننے کے لئے ستاروں کے جدول کا مطالعہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ سب اس وعید میں داخل ہے جس کو امام مسلمؒ نے عبداللہ بن نافعؓ کے واسطے سے ام المؤمنین حضرت صفیہ ؓ سے روایت کرواتے ہیں کہ آپﷺنے ارشاد فرمایاکہ:’’جو شخص کسی نجومی کے پاس جائے اور اس سے سوال کرے تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوگی ‘‘یہ تو اس شخص کی عقوبت و سزا ہے جو صرف سوال کرے او ر پوچھے اور اگر کوئی شخص اس کی تصدیق بھی کرے تواس صورت میں وہ اللہ کے نبی ﷺکے اس قول کا مصداق بن جاتا ہے کہـ’’جوشخص کاہن کے پاس جائے اور اس کی تصدیق کرے تو اس نے اس شریعت کا انکارکیا جو محمدﷺپر نازل ہوئی ہے ‘‘۔ اور ان لوگوں کے پاس جانے والا ہر شخص خواہ قدیم زمانے کے روابط اختیا رکرے یا جدید دور کے مسائل اختیار کرے تو وہ اس تنبیہ کا لائق ہے کیونکہ یہ وعید صرف اس صورت میں نہیں کہ کوئی شخص خود نجومی کے پاس جائے بلکہ اس کا یہ جانا کسی بھی طرح ہو چاہے وہ کسی بھی طرح رابطہ یا تعلق قائم کرے وہ سب طریقے اس وعید میں شامل ہیں ۔چاہے وہ اخبار یا رسالوں میں ستاروں کو پڑھے یا چاہے انٹرنیٹ پر یا پھر چاہے الیکٹرونک ڈاکے کے ذریعے پیغام رسانی کرے ۔اور جو لوگ جھوٹے نجومیوں کے جدول پر رابطہ یا فون کرتے ہیں تو گویا کہ وہ حقیقت میں کاہن کے پاس آئے ہیں ، اسی لئے یہ بہت خطرناک کام ہے اور اسی صورتِ حال کے پیشِ نظر میں اپنے تمام بھائیوں کو ان ستاروں میں غووروفکر کرنے سے خبردار کرتاہوں کیونکہ یہ ایک جھوٹ اور بری بات ہے ، اور کوئی علمی طور پر پکی بات نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک اندازے ، جھوٹ اور فریب کی قسم ہے ۔ واللہ أعلم بالصواب۔
آپ کا بھائی
أ.د خالد المصلح
10 / 3 / 1435هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں