×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / العقيدة / تصوف کے بارے میں أ.د خالد المصلح کی رائے

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-10-18 06:10 AM | مناظر:2324
- Aa +

محترم جناب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تصوف کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟

رأي أ.د خالد المصلح في التصوف

جواب

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امابعد۔۔۔

تصوف کے کئی درجات ہیں جن میں سے بعض سلوک و اخلاق پر مشقت و عبادت میں محنت اور جہد سے متعلق ہیں اور یہ سب اس طرز پر ہوں کہ نبوی طریقے سے باہرنہ نکلے پس یہ طریقہ سنت سے خارج نہیں ہے ، اور یہی وہی طریقہ ہے جس پر سابقہ عابدین جنید بغدادی اور فضیل بن عیاض جیسے اہل علم تھے جنہوں نے عبادت کی معرفت حاصل کی اور اس طریقہ کے علاوہ جو باقی طریقے اور راستے ہیں وہ سب بدعات پر مشتمل ہیں ان سب طریقوں کے درجات کتاب اور سنت سے قرب و دوری کے اعتبار سے مختلف ہیں ۔ اور جس چیزکی میں اپنے بھائیوں کو نصیحت کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے نبی کی سیرت ہے جیسا کہ آپاپنے خطبات میں بار بار فرمایا کرتے تھے۔ اسی طرح صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہ ؓ روایت فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولخطبہ دیتے وقت یہ ارشاد فرماتے ’’امابعد: سب سے بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہترین راستہ محمدکی سیرت ہے اورتمام امور کی برائی ان میں حدث اور بدعت کا پیدا ہونا ہے ، اور ہر بدعت گمراہی ہے

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

20 /9 /1427هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں