فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

العقيدة / گردشِ ایام اگر ہمیں دھوکہ دے قول القائل:

گردشِ ایام اگر ہمیں دھوکہ دے قول القائل:

تاریخ شائع کریں : 2016-10-18 | مناظر : 1309
- Aa +

میں نے دیوانِ امام شافعیؒ میں یہ اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ اور میں اپنے زمانے سے راضی نہیں جیسا کہ تم دیکھتے ہو لیکن زمانے نے جو فیصلہ کیاہے اس سے میں راضی ہوں ، اگر زمانہ نے ہمارے عہد میں خیانت کی ہے تو میں اس سے راضی ہوں لیکن یہ قہر ہے ۔ آپ کا اس کے بارے میں کیا سوال ہے؟ کیا زمانے کو چلانے والا اللہ نہیں ہے ؟

قول القائل:فإن كانت الأيـام خانت عهودنـا

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

امابعد۔۔۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپنے ارشاد فرمایاکہ:’’ زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ اللہ تعالیٰ خود زمانہ ہے ‘‘ ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ :’’ابن آدم مجھے اذیت دیتا ہے جب وہ زمانے کو برا بھلا کہتاہے اور زمانہ تو میرے ہاتھ میں ہے اور دن رات کو میں لاتا ہوں ‘‘۔لہٰذا کسی مؤمن کے لئے یہ جائزنہیں کہ وہ زمانے کو برا بھلا کہے کسی خاص و عام دونوں وجہ سے نہیں ، اور نہ اجزاء کو جیسا گھنٹہ ، دن یا مہینہ اور نہ کلی طور پر جیسازمانے میں عیب نکالنا۔ کیونکہ یہ سارا منہی عنہ ہے جیسا کہ نبی کے ارشادات سے واضح ہوتا ہے ۔ جہاں تک اشعار کی بات ہے تو پہلے اس کی صحت اما م شافعی ؒ سے ثابت نہیں ، اگر اس کی صحت کی دلیل بھی ملے تو جواب وہی ہے جو نبی پاککی حدیث ہے ۔ اور شاید امام شافعیؒ کو یہ نہی نہ پہنچی ہو یا من وجہ خبریا حکایت ذکر کیا ہو نہ کہ من وجہ ذم اور عیب کے ذکر کیا ہو، کیونکہ اگر زمانے کی برائی کی خبر دی جائے اور اس کو عیب دار نہ ٹھہرایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ)  ’’منحوس دنوں میں ‘‘۔یہاں پر ایام کو منحوس کہا گیا ہے اور یہ عیب ہے لیکن یہ برائی بیان کرنے کے لئے نہیں بلکہ صرف ایام کا ایک وصف ہے ۔ واللہ أعلم۔

متعلقہ موضوعات

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں