فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نماز / نمازکے دوران سجدوں میں حائل ہونا

نمازکے دوران سجدوں میں حائل ہونا

تاریخ شائع کریں : 2016-11-20 | مناظر : 1866
- Aa +

جناب عالی! کیا احادیث میں کوئی ایسی حدیث وارد ہوئی ہے جو زمین پر بغیر حائل کے سجدہ کرنے پر دلالت کرتی ہو اور سنیت ثابت کرتی ہو؟ یعنی کہ میں زمین پر بغیر حائل کے سجدہ کروں ؟

السجود على حائل في الصلاة

حامداََو مصلیاََ ۔۔۔ 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 امابعد۔۔۔

اہلِ علم کے ایک جماعت کی رائے ہے جن میں امام شافعی ؒ بھی شامل ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ نماز کے ساتھ جو حائل متصل ہو اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہیں ہے جیسے کہ عمامہ اور کپڑے وغیرہ اور استدلال کرتے ہیں امام مسلمؒ کی ایک حدیث سے جس کو انہوں نے نقل کی ہے جو خباب بن الارت سے مروی ہے فرمایا کہ ہم آپکے پاس آئے تاکہ گرمی کی شدت کی شکایت کرے لیکن ہم نے شکایت نہیں کی۔وہ سب کہتے ہیں کہ نمازی کے لئے اعضائے سجود کا سجدہ کی جگہ پر بغیر حائل کے رکھناواجب ہے۔ تابعین اور اصحاب مذاہب کے جمہور علماء اور ان کے علاوہ نے اس میں اختلاف کیا ہے ۔

وہ سب کہتے ہیں کہ نمازی کے لئے اعضائے سجود کا بلا حائل سجدہ پر رکھناواجب نہیں ہے ۔اور وہ جواز کا استدلال اس حدیث سے کرتے ہیں جو بخاری شریف میں(۳۸۵) اور مسلم شریف میں (۶۲۰) میں مذکور ہے ۔ اور یہ حدیث بکر بن عبداللہ کے طریق سے حضرت انس ؓسے منقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم آپکے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ہم میں سے کسی نے گرمی کی شدت کی وجہ سے سجدہ کی جگہ پر چادر بچھادی۔ اور أقرب الی الصواب تویہ ہے کہ اگر کوئی ضرورت نہ ہو تو بلاحائل کے نماز پڑھنا أولیٰ ہے ۔واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

أ د.خالد المصلح

13 / 6 / 1427 هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں