فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

طھارت / ولادت سے پہلے خون کا آنا

ولادت سے پہلے خون کا آنا

تاریخ شائع کریں : 2016-11-21 | مناظر : 1870
- Aa +

ولادت سے پہلے اگر خون آئے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اور کیا یہ نماز سے مانع ہے ؟

خروج الدم قبل الولادۃ

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کاجواب دیتے ہیں۔۔۔

نفاس کا خون ولادت کے وقت نکلتا ہے اور ساتھ درد بھی ہوتاہے ۔اور یہ علماء کی ایک جماعت کاقول ہے ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ خون ولادت کے بعد نکلتا ہے یا فوراََ نکلتا ہے۔ اور یہی زیادہ اضبط قول ہے کہ نفاس کاخون ولاد ت کے بعد ہی ہوتا ہے ۔ اور اس سے پہلے جو خو ن آئے وہ بیماری کی وجہ سے ہوگا، یعنی دم ِ فسا دہے اس قول کی رُوسے وہ نماز اور روزے سے مانع نہیں ہے ۔ان دونوں اقوال میں یہی زیادہ أقرب الی الصواب ہے ۔کیونکہ نفاس کا خون ولاد ت کے بعد جاری رہتاہے تو اس سے پہلے جو خون نکلتا ہے اگر ہم اس کو اس کے ساتھ ملاتے ہیں اضطراب کے ساتھ شک و شبہات کو پیدا کرے گا۔پس راجح قول یہی ہے کہ جو خون پہلے آتاہے وہ خون ولادت نہیں ہے، اور جو کہتا ہے کہ جب دردزہ شروع ہوتا ہے تو ولادت سے ایک دو دن پہلے خون بھی شروع ہوتا ہے تو وہ نفاس کا خون اور اس صورت میں نماز اور روزہ چھوڑنا ہوگا۔اور علماء فرماتے ہیں کہ وہ دم فسادہے اور نماز اور روزہ رکھے گی ۔ اگر اس کو ایسا لگے کہ وہ ولادت میں ہے اور نہ پڑھے تو پھر احتیاطی طور پر قضاء کرلے

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں