×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / طھارت / حائضہ عورت کو دم کرد ہ پانی سے غسل کرنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-11-22 06:04 AM | مناظر:2051
- Aa +

حائضہ عورت کو دم کردہ پانی سے غسل خانہ میں غسل کرنے کا کیا حکم ہے ؟ اغتسال المرء ۃ الحائض بماء مقروء علیہ

جواب

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا یہ جواب دیتے ہیں کہ عام پانی کے ساتھ حائضہ کا غسل کرنا یا دم کردہ پانی سے اس میں حرج نہیں ہے اور اس پانی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے کہ اس کو عام استعال سے حرام قرار دے ، پس زم زم کا پانی اس قول کے مطابق مبارک ہے۔ زم زم کھانے سے کھا نا ہے اور بیماری کے لئے شفاء ہے، اور اس کے باوجو د علماء کے راجح قول کے مطابق غسل میں استعمال کرسکتے ہیں یہاں تک کہ بیت الخلاء میں بھی استعمال کیا جاسکتاہے ۔اس میں کوئی حرج نہیں ہے او راس صفت کے ساتھ بھی پانی کو استعمال سے منع کیا جاسکتا ہے اور وہ پانی جس کو دم کیا گیا ہو تو وہ اس وجہ سے مبارک بنے گا۔لیکن یہ خصوصیت بھی اس کو استعمال سے منع نہیں کرسکتا ، چاہے عورت حائضہ ہو یا بیت الخلاء میں استعمال کرے ۔ اور میرے پاس حدیث و قرآن سے کوئی دلیل نہیں ہے کہ جس میں دم کردہ پانی اور زم زم کے پانی کو اس طرح کے استعمال سے منع کیاگیاہو۔ ہاں صحابہ کے اقوال ہیں زم زم کے پانی سے غسل کے بارے میں لیکن کوئی مرفوع حدیث وارد نہیں ہے


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں