فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

العقيدة / کیا انسان مجبور محض ہے یا مختار مطلق؟

کیا انسان مجبور محض ہے یا مختار مطلق؟

تاریخ شائع کریں : 2016-11-22 | مناظر : 2116
- Aa +

انسان کو اللہ تعالیٰ نے مجبورمحض بنایاہے یا پھر مختار مطلق ؟

ھل الانسان میسر أم مخیر؟

میسر اور مخےّر ان دونوں الفاظ کا اطلاق انسان کی صفت کے لئے بعد میں وضع کیا گیاہے یعنی یہ لفظ محدث ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں ایسا کوئی وصف انسان کے لئے نہیں بیان ہوا کہ یا تو وہ مجبور محض ہے یا پھر اس کو مطلقا اختیار ہے جس سے وہ اللہ کے علم ، قدرت اور ارادے کے دائرے سے باہر نکل سکے ۔

اس طرح کے الفاظِ متاقبلہ کا اطلاق سلف اور ائمہ میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں بلکہ وہ اس میں فرق کو واضح کرتے تھے اور مطلقا ََ استعمال کا انکار کرتے تھے ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ مجموع الفتاویٰ (۲۹۳/۸) میں فرماتے ہیں :’’ سلف صالحین اور ائمہ امت ان الفاظ کے اطلاق کا انکار کرتے تھے خاص طور پر باطل کے اثبات اور نفی کے لئے اور اگرچہ یہ الفاظ حق اور صحیح بھی ہوپھر بھی واجب یہی ہے کہ اچھے عبادات کو استعمال کیا جائے جو نص اور اثر سے ثابت کرتے ہیں اورمغلق و مشتبہ عبارات کی تفصیل بھی واجب ہے ‘‘۔  اور سلف امت نے انسان کے لئے جبر اور اختیار کے وصف کا بھی انکار کیا ہے ۔ جیسا کہ ابن تیمیہ ؒ مجموع الفتاویٰ (۴۶۱/۸) میں نقل کرتے ہیں :’’یہاں تک لفظِ جبر کا انکار کہ ’’جبر‘‘ کے قائل کو بھی بر ا سمجھا اور ’’لم یجبر‘‘ کے قائل کو بھی اور یہ بات بہت سے مشہور آثار میں امام اوزاعی ، سفیان ثوری، عبدالرحمان بن مہدی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ سے ثابت ہے ‘‘۔اور مجموع الفتاویٰ(۲۳۷/۱۶) کے ایک اور جگہ فرمایا: ’’اور اسی لئے بعض ائمہ جیسے امام احمد اور امام اوزاعی رحمہما اللہ وغیرہ نے باقاعدہ جبر کے نفی و اثبات کے انکار میں نص لکھے ہیں پس ایسانہیں کہا جائے گا : کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مجبور بنایا ہے یا اس پر جبر نہیں ہے کیونکہ لفظِ جبر مشترک اور مجمل ہے ۔ تو اگر یوں کہا جائے کہ اللہ نے جبرکیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فعلِ خیر اور شر دونوں میں مجبور ہیں بغیر کسی اختیار کے ۔ اور اگر یوں کہا جائے کہ کوئی جبر نہیں تو پھر یہ ثابت ہوگا کہ انسان جو مرضی کرے بغیر اختیار کے اور دونوں مطلب غلط ہیں ۔

اور شیخ الاسلام نے اس بات کی وضاحت مجموع الفتاوی (۶۶۴/۷) میں کی ہے :’’اگر کوئی غلطی لفظ جبر کہہ کر یہ سوال کرتا ہے کہ بندہ مجبور ہے یا غیر مجبور ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ا س کی مراد جبر سے ہے کہ انسان کی کوئی چاہت کوئی قدرت یا کسی قسم کا فعل نہیں ہے تو یہ باطل ہے ۔ کیونکہ انسان اپنے افعال اختیاریہ کا خود فاعل ہوتا ہے ، ااور وہ ان افعال کو اپنی قدرت اور چاہت سے کرتاہے اور اگر جبر سے مراد یہ لے کہ انسان اپنی چاہت ، قدرت اور فعل کا خود خالق ہے تو جان لو کہ اللہ ان تمام چیزوں کا خالق حقیقی ہے ‘‘۔ پس آپ کایہ سوال کہ انسان مجبور ہے یا مخیر ؟ اس کا جواب یہی ہے جیسا شیخ الاسلام ؒ نے جواب دیا ہے کہ انسان کے بارے میں مجبور یا مخیر کا لفظ نہیں بولا جائے گا کیونکہ یہ دونوں غلط ہے اور نص قرآنی اور حدیث یہ ثابت ہے کہ انسان اپنی چاہت اور ارادے سے فعل کا ارتکاب کرتاہے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے علم ، مشیت اور ارادے سے باہر نہیں نکلتا ۔ اور اس کی وضاحت اللہ کے اس فرمان مبارک میں ہے :(ترجمہ) ’’ تم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو سیدھاسیدھا رہناچاہے ، اور تم چاہوگے نہیں ، الا یہ کہ خود اللہ چاہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے‘‘۔ (التکویر: ۲۹:۲۸) علاوہ ازیں اور بھی کافی نصوص قرآنی اور احادیث نبویہ میں یہ مضمون وارد ہوا ہے ۔ اور اس معنی کے متعلق انسان کے وصف کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ انسان ’’میسر‘‘ ہے جیسا کہ صحیحین میں حضرت علی ابن طالب ؓ کی حدیث سے ثابت ہے کہ آپنے ارشاد فرمایا:’’ تم میں سے ہرشخص کا ٹھکانہ جنت یا جہنم میں طے ہوچکا ہے ، عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! پھر ہم عمل کو نہ چھوڑکر تقدیر کی کتاب پر اعتماد کر کے بیٹھ نہ جائیں ؟ فرمایا: عمل کرو کہ ہر کوئی اس کا م کے لئے میسر ہوتا ہے جس کام کے لئے اسے تخلیق کیا گیا ہے ، اس کے بعد یہ آیا ت تلاوت کی : (ترجمہ) ’’اب جس کسی نے اللہ کے راستے میں مال دیا ، اور تقوی اختیار کیا اور سب سے اچھی بات کو دل سے مانا تو ہم اس کو آرام کی منز ل تک پہنچنے کی تیاری کرادیں گے ‘‘۔واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

17/11/1424هـ

 

متعلقہ موضوعات

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں