×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / طھارت / حمل کے دوران بہنے والے خون کا کیا حکم ہے ؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-11-22 02:33 PM | مناظر:2236
- Aa +

ایک عورت پوچھتی ہے کہ حمل کے دوران نکلنے والا خون صاف ہوتاہے یا نجس ہوتاہے اور کیا وہ نماز اور روزوں سے مانع ہوگا؟

حكم دم النزيف أثناء الحمل

جواب

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں :کہ یہ خون نماز اور روزے سے مانع نہیں ہوگا اور جس جگہ کو لگے اس کو دھونا واجب ہے کیونکہ یہ نجس ہے۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

11/11/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں