فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

طھارت / دوسرے مہینے میں اگر رحم مادر میں رہنے والا بچہ گرجائے تو کیا میں نماز پڑھوں گی ؟

دوسرے مہینے میں اگر رحم مادر میں رہنے والا بچہ گرجائے تو کیا میں نماز پڑھوں گی ؟

تاریخ شائع کریں : 2016-11-22 | مناظر : 839
- Aa +

دوسرے مہینے میں رحم مادر میں رہنے والا بچہ ساقط ہوگیاتو میں نماز کے حکم کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا حکم ہوگااور ساتھ خون بہت گاڑھا آرہا ہے؟ اور اگر میں نے یہ سوچتے ہوئے کہ میں حائضہ ہوں نماز چھوڑ دی ہو تو مجھ پر قضاء ہوگی یا نہیں ؟

أسقطت جنيناً في الشهر الثاني فهل أصلي؟

یہ خون حیض کا نہیں ہے اور نہ نفاس کا ہے بلکہ یہ دم فساد ہے اور اس کا کوئی حکم نہیں ہے ۔اور نہ یہ نماز سے منع کرتاہے اور نہ روزہ سے منع کرتاہے بلکہ اس میں تو طہارت کا حکم ہوگاعورت کے لئے۔اور جو نمازیں آپ نے یہ سوچتے ہوئے چھوڑدی ہیں کہ اس خون کی وجہ سے نماز واجب نہیں ہے اس کا تم پر کوئی قضاء نہیں ہے ان نمازوں کا جو گزر گئی ہیں ۔ واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

18/06/1425هـ

متعلقہ موضوعات

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں