فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

طھارت / بغیر وضو کے مصحف کو چھونے کا حکم

بغیر وضو کے مصحف کو چھونے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2016-11-22 | مناظر : 1623
- Aa +

بغیر وضو کے مصحف کو چھونے کا کیا حکم ہے؟

حكم مس المصحف بدون وضوء

تمام جمہور علماء سلف و خلف اورسار ے صحابہ ؓ اور جو ان کے بعد ہیں ان سب کا یہی مذہب ہے کہ قرآن کو چھونا جائز نہیں ہے الا وہ شخص جو حدث اکبر اور حدث اصغر دونوں سے پاک ہو۔اور یہی مذہب أئمہ أربعہ کا بھی ہے ۔ امام ابوحنیفہ اما م شافعی امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ سب کا یہی مذہب ہے۔اور ابن عبدالبر نے استذکار میں کہاہے (۱۰/۸) ’’شہروں کے وہ فقہاء جن پر فتوی کا دارومدارہے اور ان کے ساتھیوں کا بھی اس پر اجماع ہے کہ مصحف کو صرف پاک آدمی ہی چھوسکتاہے ‘‘۔

 اور انہوں نے روشن اور واضح دلیل کے ساتھ حجت پکڑی ہے جو نبی علیہ السلام سے کئی طرق سے مروی ہے۔

آپنے ارشاد فرمایا: ـ(کہ قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں) یہ حدیث عمروبن حزم سے آل حزم کی کتاب میں مروی ہے اورعبداللہ بن عمر اور حکیم بن حزام اور عثمان بن ابو العاص اور ثوبان ؓ سے بھی روایت ہے ۔

اور اہلِ علم اور اہلِ تحقیق نے ان احادیث میں بہت کلا م کیا ہے اور ان کے پڑھنے میں ۔ اور ان کے احاد ہونے کی طرف نظر کرتے ہوئے ، ان میں سے کوئی بھی حدیث سالم نہیں ہے مگر ان کو اگر جمع کیا جائے تو اس سے حجت پکڑی جاسکتی ہے ۔ اور جس کی وجہ سے یہ حدیث مضبوط بن جاتی ہے وہ معروف و مشہور قول جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہے اور صحابہ سے اس کے مخالف میں کوئی قول بھی وارد نہیں ہے ۔امام نووی ؒ نے المجموع شرح المہذب میں کہا ہے کہ ’’یہ قول علیؓ سعد ؓ اور ابن عمرؓ کا ہے اور اس کے مخالف صحابہ سے کوئی قول معلوم نہیں ہے ‘‘۔(۸۰/۲) شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے مجموع الفتاوی (۲۱،۲۶۶) میں لکھا ہے ــ:اور سلمان الفارسی اورعبداللہ ابن عمرؓ اور ان کے علاوہ کا بھی یہی قول ہے اور ان صحابہ سے اس کے مخالف کوئی قول وارد نہیں ہے ۔

اور بعض قائلین نے جس سے وجوب کا استدلا ل کیاہے وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے :(ترجمہ) ’’اس قرآن کو پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں‘‘۔ (سورۂ واقعہ:۷۹)

اور اس آیت سے یہ استدلال بھی کیا گیاہے اس سے مراد لوح محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد(المطھرون) سے مرادفرشتے ہیں، بنی آدم نہیں ہیں جیسا کہ جمہور صحابہ میں سے خلف اور سلف کا یہی مذہب ہے اور ان کے بعد والوں کا بھی یہی مذہب ہے۔

اور اس کے ساتھ ابن القیم ؒ نے اپنی کتاب التبیان فی اقسام القرآن میں لکھا ہے (۴۰۸/۱) ’’اور میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ کو سناوہ اس آیت سے استدلا ل پکڑتے ہیں کہ مصحف کو محدث نہیں چھوسکتاہے ۔ وہ دوسری طرف سے بھی اس استدلال کو مضبوط کرتے ہیں ، پس وہ کہتے ہیں کہ یہ من باب التنبیہ والاشارہ ہے۔کہ وہ صحف جو آسمان میں ہیں ان کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں ، اسی طرح وہ صحیفیں جو ہمارے پاس ہیں یعنی قرآن تو اس کو بھی صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیِ‘‘۔ اور یہ بات اس آیت سے مشتق ہے ۔

اور شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے شرح العمدہ (۳۸۴) میں کہا ہے ’’اس کی توجیہ یہ ہے ( اللہ جانتاہے) کہ لوح محفوظ میں جو قرآن ہے اس مصحف میں ہے ، وہ دونوں ایک جیسے ہیں چاہے اس کی لکھائی کاغذپر ہو یا چمڑے پر یاپتھر پر یا پھرکپڑے پر ہو۔

اور جو کتاب آسمان میں ہے اس کا حکم یہ ہے کہ اس کو پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں تو واجب ہے کہ جو زمین میں ہے اس کا بھی یہی حکم ہو ۔کیونکہ اس کی حرمت اس کی طرح ہی ہے اور (الکتاب) اسم جنس ہے ، اس میں وہ سب شامل ہیں جس میں قرآن ہو چاہے وہ زمین میں ہو یا آسمان پر۔ اور اس کے بارے میں اللہ نے وحی اتاری ہے کہ :’’بلند کئے ہوئے اور پاک وصاف‘‘۔ ایک اور جگہ پر اللہ کا ارشادہے:’’اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور پاک صحیفے کی تلاوت کرتاہے‘‘۔(البینۃ:۲)  اور اسی طرح اللہ کا فرمان ہے :’’وہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو بڑے مقد س ہیں ‘‘(عبس:۱۳۔۱۴)  اللہ نے اس کی صفت بیان کی ہے کہ وہ پاک ہیں ، تو محدث کے لئے اس کا چھونا ٹھیک نہیں ہے ۔

اور بعض تابعین کا اختلاف ہے اس میں ، وہ کہتے ہیں کہ حدث اصغر کے محدث کے لئے قرآن چھونا جائز ہے اور یہ ظاہریہ کا مذہب ہے ۔ اور اس قول کے ضعف کے بارے میں پہلے گزرچکا ہے ۔

اور اس تنبیہ کا فائدہ وہ قول ہے جو جمہور قائلین کا ہے کہ قرآن کو چھونے کے لئے وضو واجب ہے اور جمہور نے چھوٹے بچوں کے لئے قرآن کو بغیر طہارت کے چھونے کو جائز قرار دیا ہے ، اور یہی مذہب حنفیہ ، مالکیہ اور شافعیہ کا ہے اورحنابلہ کے ہاں ایک روایت ہے اور اس میں حجت ہے کہ بچوں کو مکلف بنانے میں اور ان کو وضو کا حکم کرنے میں حرج ہے کہ کبھی کبھی وہ اس مشکل کی وجہ سے قرآن کا سیکھنا اور یاد کرنا چھوڑدیتے ہیں ۔لہٰذا ضرورت کے تحت ان کے لئے قرآن کو چھونے کی اجازت دے دی گئی ہے اور ان سے مشقت اور حرج کو دور کردیا گیا ہے۔اور خاص طور پر وہ تو ابھی مرفوع القلم ہے ، مکلف بھی نہیں ہیں ۔اور یہ قول اس کے غور وخوض کے لئے کافی ہے ۔ واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

17/10/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں