×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / طھارت / حمام میں اپنے ساتھ ایسا موبائل لے کر جانا جس میں قرآنی آیات ہوں

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-11-22 09:06 PM | مناظر:1792
- Aa +

کیا میرے لئے ممکن ہے کہ میں حمام میں اپنے ساتھ ایسا موبائل لے کر جاؤں جس میں آیاتِ قرآ نی ہوں یا کوئی اور اسلامی عبارت ہو جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو؟

حكم دخول الحمام بجوال فيه آية

جواب

امابعد۔۔۔

جمہور علماء اس کے کراہیت کی طرف گئے ہیں کہ حمام میں اس چیز کو لے کر جانا جس میں اللہ کا ذکر ہو اور اس کی استدلا ل حضرت انسؓ کی روایت سے کرتے ہیں کہ آپجب خلاء میں داخل ہوتے تو انگوٹھی اتارتے ۔ یہ حدیث معلول ہے  امام نسائی ؒ نے اس حدیث پر کلام کیاہے اور امام ابوداؤد ؒ نے فرمایاکہ یہ حدیث منکر ہے اور احتجاج کے لئے ٹھیک نہیں ہے ۔

اور بیت الخلاء میں اس چیز کو لے کر جانا جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کے جواز کی طر ف تابعین کی ایک جماعت گئی ہے ۔ جن میں ابن مسیبؒ ، حسن اور ابن سیرینؒ ہیں ۔ اور امام احمد ؒ سے پوچھا گیا ایک آدمی کے بارے میں جو بیت الخلاء میں اپنے ساتھ درہم کو لے کر جاتاہے ۔ تو فرمایا: امید ہے کہ کوئی حرج نہیں ہوگی۔ اور جو میرے سامنے ہے وہ یہ کہ کوئی مانع نہیں ہے کہ موبائل کو بیت الخلاء میں نہ لے کر جائے جس میں قرآنی آیت ہو یا کوئی اور چیز جس میں اللہ کا ذکر ہو۔ کیونکہ اس کے بارے میں کوئی مانع نہیں ہے اور کراہت حکم شرعی ہے اور اس کے لئے بھی ضرور کوئی دلیل ہونی چاہئے ۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

26/10/1424هـ

 


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں