×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / طھارت / بیت الخلاء میں بات کرنے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-11-28 05:54 PM | مناظر:2134
- Aa +

کیا بیت الخلاء میں بات کرنا مکروہ ہے ؟

حکم الکلام فی الخلاء

جواب

امابعد

جی ہاں، علماء کی ایک جماعت نے بیت الخلاء میں بات کرنے کی کراہت پر ایک حدیث سے استدلال کیا ہے جسے امام مسلمؒ نے(۳۷۰) ضحاک بن عثمان کے طریق سے ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ:’’ایک مرتبہ آپ پیشاب فرمارہے تھے اور ایک آدمی گزرا اور سلام کیا تو آپنے اس کو جواب نہیں دیا‘‘ اور اس قول کوجماہیرِعلماء نے اختیار کیا ہے، اور اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ بات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

27/03/1425هـ

 


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں