فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

طھارت / ناپاک آدمی کا مصحف کو چھونا

ناپاک آدمی کا مصحف کو چھونا

تاریخ شائع کریں : 2016-11-28 | مناظر : 1215
- Aa +

السلام علیکم جناب عالی! میں آپ سے یہ فتوی پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا حدثِ اصغر کی وجہ سے جو بغیر وضو کے ہو تواس کے لئے قرآن کا چھونا جائز ہے اور اس کی دلیل کیا ہے (اس لئے کہ ) میں نے اس کے بارے میں علماء کا کافی اختلاف دیکھا ہے ؟

مس المصحف لغیر الطاہر

حامداََ ومصلیاََ

امابعد

جمہور علماء اور محدثین و فقہاء کا مذہب تو یہ ہے کہ قرآن کا چھو نا صر ف پاک آدمی کے لئے جائز ہے اور ان کا استدلال ا س حدیث سے جس کو امام مالک ؒ نے عبداللہ بن ابی بکر کے طریق سے حر ام سے مرسلاََ نقل کی ہے کہ :’’اس خط میں جس کو اللہ کے رسول نے عمرو بن حرام کی طرف لکھا تھا( اس میں یہ تھا) کہ قرآن کو صرف پاک آدمی ہی چھو ئے ‘‘۔اور اصحاب سنت کے ہاں یہ حدیث موصولاََ روایت ہوئی ہے لیکن یہ موصولاََ درست نہیں ہے ، اگر چہ یہ روایت مرسل ہے مگریہ آپ کا عمرو بن حرام کی طرف لکھے ہوئے خط کا ایک ٹکڑ اہے اور یہ ایسا خط ہے جسے اہل علم نے قبولیت بخشی ہے ۔اور بعض علماء نے ناپاک کا قرآن کو چھونے کے عدمِ جواز پر استدلال کیا ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے (جس کا ترجمہ ہے )’’قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں‘‘۔لیکن صحیح یہی قول ہے کہ آیت محدث کو اشارہ اور تنبیہ کے ساتھ قرآن کو چھونے سے منع کررہی ہے جب وہ صحیفیں جو آسمان ہیں انہیں پاک لوگوں کے علاوہ کوئی چھونہیں سکتے تو اسی طرح جو صحیفہ ہمارے ہاتھ میں ہے یعنی قرآن تو چاہئے کہ اس کو بھی پاک لوگ ہی ہاتھ لگائے ۔ واللہ أعلم

متعلقہ موضوعات

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں