فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

طھارت / غسل صرف انزال سے واجب ہوتا ہے

غسل صرف انزال سے واجب ہوتا ہے

تاریخ شائع کریں : 2016-11-28 | مناظر : 4625
- Aa +

میرا سوال یہ ہے کہ کئی سالوں سے مجھے اپنی جنسی شہوت کو پورا کرنے کے لئے ایک عادت لگ گئی ہے اور وہ یہ کہ میں اپنے سونے والے تکیہ کے ساتھ اپنے آلۂ تناسل کو رگڑتا ہوں اور ایسا محسوس کرتاہوں جیسا کہ میں ایک عورت کے ساتھ جماع کررہا ہوں لیکن میں اپنے آپ کو انزال سے روکتاہوں یعنی میری شہوت پوری ہوجاتی ہے لیکن میں حتی الامکان انزال نہیں کرتا۔ اس لئے میں اس کی وضاحت طلب کرتا ہوں کہ کیا اس صورت میں مجھے غسلِ جنابت کرنا پڑے گایا نہیں ؟ اور یہ بات پیشِ نظر رہے کہ میں منی کو اخراج سے روکتاہوں ۔

لا غسل إلا بإنزال

امابعد

اس بات پر اجماعِ امت ہے کہ جب تک انزال نہ ہو تب تک مشت زنی اور احتلام سے غسل واجب نہیں ہوتاکیونکہ امام مسلمؒ نے(۳۴۳)میں سعید بن خدری ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ آپنے ارشاد فرمایا:’’پانی ’’پانی‘‘ سے ہی ہوتاہے‘‘۔ اور امام بخاریؒ نے (۱۳۰) میں حضرت زینب بنت ابی سلمہ ؓ سے روایت نقل کی ہے وہ فرماتی ہیں کہ:ام سلیمؓ اللہ کے رسولکے پاس آئیں اور عرض کرنے لگی: اے اللہ کے رسول!  بے شک اللہ تعالیٰ حق کہنے سے حیا نہیں کرتے لہٰذا اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر غسل واجب ہوگا؟ اللہ کے نبینے ارشادفرمایا:جی ہاں، اگر وہ پانی دیکھے‘‘۔احناف ، مالکیہ اور شوافع کے جمہور علماء اور حنابلہ کی ایک جماعت نے وجوبِ غسل کے لئے عضوِ تناسل سے خروجِ منی کی شرط لگائی ہے پس اگر وہ منی کے منتقل ہونے اور نزول کے بارے میں محسوس کرے اور اپنے عضوِ تناسل کو پکڑ کر منی کو خروج سے روک دے تو اس پر غسل واجب نہیں ہے ،جیسا کہ پہلے احادیث میں گزرچکااور حنابلہ کا مذہب ہے کہ اس طرح اس پر غسل واجب ہوگا اگرچہ منی نہ نکلے اس لئے کہ پانی کا اپنی جگہ سے منتقل ہونا یہی وہ جنابت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ  نے ارشاد فرمایا:(ترجمہ) ’’ اگر تم جنبی ہو تو اچھی طرح طہارت حاصل کرو‘‘۔لیکن پہلا قول ہی صحیح ہے ، اسی وجہ سے اگر انزل نہیں ہوتا یہ سب کچھ کرنے کے بعد جو آپ نے بیا ن کیا ہے شہوت کو پورا کرنے کے ساتھ تو آپ پر غسل واجب نہیں ہے ۔ واللہ أعلم۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں