×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نماز / کیا عورت کی آواز میں بھی پردہ ہے؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-01-06 07:24 PM | مناظر:2708
- Aa +

کیا عورت کی آواز میں بھی پردہ ہے؟

هل صوت المرأة عورة؟

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں:

عورت کی آوز کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے کیا یہ بھی پردے میں شامل ہے یا نہیں؟کتاب و سنت سے یہی ظاہر ہے کہ عورت کی آواز پردے میں سے نہیں اور یہ حنفیہ کا اصح قول جبکہ مالکیہ کے نزدیک معتمدقول ہے اور شافعیہ اور حنابلہ کا بھی یہی مذہب ہے۔اور یہ تب ہے جب اس میں شہوت اور اس کے سننے سے لطف اندوزی کاشک و شبہ نہ ہو اور اگر یہ صورت ہے تو پھر اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔جیسا کہ نبیکا ارشاد گرامی ہے:کانوں کی زنا اس کا سننا ہے۔اس حدیث کو ابو ہریرہؓ نے روایت کی ہے۔(مسلم: ۲۶۵۷) واللہ تعالیٰ اعلم

آپ کا بھائی

خالد المصلح

18/12/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں