فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نماز / مال کو ہلاکت سے بچانے کے لئے نماز کا توڑنا

مال کو ہلاکت سے بچانے کے لئے نماز کا توڑنا

تاریخ شائع کریں : 2017-01-08 | مناظر : 1200
- Aa +

اگر لوگوں کی ایک جماعت نمازپڑھ رہی ہو اور دورانِ نماز بکریوں کا ریوڑ ان کے کھانے پر یورش کرے تو اس کاکیا حکم ہے کیا ان میں سے کوئی ایک اپنی نماز توڑ سکتا ہے ؟اور اگر نمازیوں میں سے کوئی اس پر تنبیہ کرتے ہوئے بول پڑے تو ا س کا کیا حکم ہے ؟

قطع الصلاة لإنقاذ المال من الهلاك

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں:

مال کو ہلاکت کو سے بچانے کے لئے نماز کا توڑناجائز ہے ، بعض فقہاء نے اس کی صراحت فرمائی ہے ، اور اس جواز پر آپکا فرمان مبارک شاہد ہے :’’جب کھانا حاضر ہو یا قضائے حاجت(چھوٹے بڑے پیشاب) کی ضرورت ہو تواس وقت نماز نہ پڑھو‘‘ا س کو امام مسلمؒ نے (۵۶۰)میں یعقوب بن مجاہد عن عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کے طریق سے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے اس حدیث میں نماز سے نہی کا جو حکم ہے وہ صرف ایسی چیز سے روکنا ہے جو نماز میں دل کو مشغول رکھے یا نماز کی خشوع و خضوع میں کمی پیدا کرے ،لہٰذا تم میں سے کسی ایک کے لئے اپنے کھانے کی حفاظت کے لئے نماز کا توڑنا جائزہے ۔ باقی رہی بات نماز میں بات کرنے کی تو اگر ایسا بھول یا دہشت و خوف سے ہو تو پھر کوئی حرج نہیں اور اگر قصدو ارادے سے ہو تو پھراس سے نماز باطل ہوجاتی ہے ۔واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

13/06/1425هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں