×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نماز / عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ باجماعت نماز

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-01-08 06:39 PM | مناظر:1979
- Aa +

کیا عورت اپنے خاوند کے پہلو میں فرض یا نفل نماز پڑھ سکتی ہے ؟

صلاة المرأة جماعة مع زوجها

جواب

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں:

مسنون تو یہی ہے کہ عورت علیحدہ صف میں نماز پڑھے اگرچہ وہ اپنے کسی ذی محرم یااپنے خاوند کے ساتھ نماز پڑھے اس لئے کہ بخاری (۳۸۰) میں اور مسلم (۶۵۸) میں حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ آپنے مجھے ، ایک یتیم اور میری دادی ملیکہ کو اس طرح نماز پڑھائی کہ مجھے اور یتیم کو اپنے پیچھے صف میں کھڑا کیا اوروہ بوڑھی عورت ہمارے پیچھے تھی آپنے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھراس کے بعد سلام پھیرلیا۔لیکن اگر عورت اپنے خاوند یا اپنے کسی ذی محرم کے پہلو میں فرض یا نفل نماز پڑھے تو جمہور کے ہاں اس کی نماز درست ہے مگر اس طرح اس سے سنت چھوٹ جائے گی ۔ واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

13/01/1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں