×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نماز / نماز میں بلند آواز سے باسم اللہ پڑھنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-01-08 08:07 PM | مناظر:1929
- Aa +

نماز میں بلند آواز سے باسم اللہ پڑھنے اوراس پر مداومت کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجهر بالبسملة في الصلاة

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں:

اہلِ علم میں سے اکثرصحابہ و تابعین کا مذہب یہ ہے کہ جہری نمازوں میں سرّی طور پر باسم اللہ پڑھنا سنت ہے ، اور یہی جمہور فقہاء کا مذہب ہے جیسا کہ امام مسلم نے(۶۰۵)میں نقل کیا ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ:’’ میں نے آپ،ابوبکر ، عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی لیکن ان میں سے کسی سے بھی( باسم اللہ الرحمن الرحیم )پڑھتے ہوئے نہیں سنا‘‘۔اور امام بخاری ؒ کی نقل کردہ حدیث (۷۰۱) میں ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ :’’آپ، اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نماز کو( الحمدللہ رب العالمین ) سے شروع فرماتے تھے‘‘۔ اس پر مسلم شریف کی حدیث (۷۶۸) پر دلالت کرتی ہے جو حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ :’’آپ نماز تکبیر و قرأت اور الحمدللہ رب العالمین سے شروع فرماتے تھے ‘‘۔یہی آپسے ثابت ہے ، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ مجموع الفتاوی (۲۷۵/۲۲) میں فرماتے ہیں کہ:آپ سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ علیہ السلام باسم اللہ سے نماز شروع فرماتے، اور نہ ہی صحاح ستہ اور سنن میں ایسی کوئی صریح حدیث ملتی ہے جس میں جہراََ باسم اللہ پڑھنے کی کوئی روایت ہو، جتنی بھی احادیث جہراََ باسم اللہ کے بارے میں ہیں وہ سب ضعیف بلکہ موضوع ہیں ‘‘۔اور جب دار قطنی نے اس بارے میں کتاب تصنیف کی تو ان سے پوچھاگیا:کیا اس میں کوئی صحیح روایت بھی ہے ؟کہا: آپسے تو کوئی صحیح روایت نقل نہیں کی باقی صحابہ میں سے جونقل کیا ہے اس میں کچھ صحیح ہے اورکچھ ضعیف‘‘، امام شافعیؒ اور اہل علم میں سے ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ باسم اللہ بالجہر سنت ہے اس بارے میں انہوں نے حجتیں تو بہت پیش کی ہیں لیکن ان میں سے کچھ بھی آپسے ثابت نہیں ہے۔ بہرکیف یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے جس میں اگر کوئی اجتہاد کرکے کوئی قول علیٰ طریق الصواب اپنا بھی لے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔اس لئے کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے بسا اوقات بطورِعمل جہر والا قول بھی اپنایا ہے اس لئے کہ بعض صحابہ سے ایسا ثابت ہے اور اس لئے بھی کہ یہ بطورِ تعلیم ہو۔فرمایا:امام احمدؒ سے جو قولِ صواب  منقول ہے وہ یہ کہ کبھی کبھی باسم اللہ بالجہر مستحب ہے۔(۳۴۴/۲۲)


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں