فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

مضامین / زمانۂ جدید اور قدیم میں علماء کا کردار

زمانۂ جدید اور قدیم میں علماء کا کردار

تاریخ شائع کریں : 2017-01-10 | مناظر : 2055
FR
- Aa +

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے اور درود و سلام ہمارے نبی رحمت محمدﷺ پر اور ان کی آل اولاد اور تمام صحابہؓ پر۔
اما بعد:
دینِ اسلام کے بارے میں جسے ذرا بھی جانکاری ہو تو اس سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ علمائے دین کے بلندی مرتبہ اور بلندی مقام میں لوگوں میں سے کوئی بھی ان کے ہم پلہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ علمائے دین کے فضائل و مناقب موتیوں کی طرح قرآن و حدیث میں بکھرے پڑے ہیں، اور اس لئے بھی کہ علمائے دین ہی لوگوں تک شریعتِ اسلام کے پہنچانے میں اور اس کی طرف ان کی رہنمائی کرنے میں اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ایک وسیلہ اور واسطہ ہیں۔
سفیان بن عبینۃ فرماتے ہیں کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بلند مرتبہ وہ شخص ہے جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ ہو اور وہ واسطہ أنبیاء اور علمائے دین ہیں ۔ اس لئے کہ رسولوں کے بعد علمائے کرام ہی امت میں ان کے جانشین اور ان کے علم کے وارث ہوتے ہیں اور ان علماء کا چھوٹا بھی محتاج ہے اور بڑا بھی، مرد و عورت بھی محتاج ہیں اور حاکم اور رعایا بھی۔ لہذا لوگوں پر واجب ہے کہ وہ امت میں ان علماء کرام کو عزت و احترام اور بلند مقام دیں۔ اور علماء پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا فرض کر دیا گیا ہے وہ لوگوں تک من و عن پہنچائیں کہ علماء کرام کے صلاح و قیام سے لوگوں کی دنیا و آخرت صحیح ہوگی۔ ایسی ایک کہاوت مشہور ہے کہ: ’’عالم کی مثال ایک کشتی کی طرح ہے جس طرح اگر کشتی ڈوب جائے تو اس میں موجودہ لوگ بھی ڈوب جاتے ہیں عین اسی طرح عالم کے پھسلنے سے عالم پھسل جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل علم کے ساتھ یہ عہد و پیمان کیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے (اللہ کے احکامات) بیان کریں گے اور ان کو لوگوں سے نہیں چھپائیں گے جیسا کہ ارشاد پاک ہے:
ترجمہ:  اور اس وقت کا تذکرہ سنو جس وقت اللہ نے ان لوگوں سے عہد و پیمان کیا جنھیں کتاب دی گئی تھی کہ تم ضرور بالضرور لوگوں کے سامنے اس کتاب کو کھول کھول کر بیان کرو گے اور اسے لوگوں سے نہیں چھپاؤگے مگر انہوں نے اس عہد و پیمان کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کتاب کو اس نے سستے داموں بیچا لہذٰا انہواں نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا  (آل عمران ۱۸۷)۔
 اور حق کو چھپانے والوں اور اس سے رُوگردانی کرنے والوں کی مزمت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: (ترجمہ) اور اس سے بڑا ظالم و ستمگر کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی گواہی اپنے پاس چھپاتا ہے اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ تم سے غافل نہیں ہے (البقرہ ۱۴۰)۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: (ترجمہ) بے شک وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم انہیں کتاب میں کھول کھول کر لوگوں کے لئے بیان کر چکے ہیں‘ تو ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت بھیجتے ہیں (البقرہ ۱۵۹)۔
اور فتنہ و فساد کے دور میں جب ہدایت کی راہیں سمجھائی نہیں دیتی اور حق باطل کے ساتھ گڑمگڑ ہوجاتا ہے اور خواہشات نفسیانی دِلوں میں جڑیں پکڑلیں اور لوگ ہر چھڑتے سورج کے پجاری بن جائیں اور حق کے طلبگار پر حق پوشیدہ ہو جائے تو ایسے وقت میں امت کے لئے وعظ و نصیحت کرنا واجب بلکہ فرض ہو جاتا ہے۔ اسی لئے تو آنحضرتﷺ فتنوں کو شبِ دیجور کی کالی سیاہ رات سے تشبیہ دی ہے(یعنی ایسی کالی سیاہ رات جس میں ذرا بھی روشنی نہ ہو) جیسا کہ آنجنابﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:’’نیک اعمال میں جلدی کرو ورنہ عنقریب ایسے فتنے نمودار ہوں گے جو کالی سیاہ رات کی طرح تاریک ہوں گے (ایسے فتنے ہوں گے کہ) صبح آدمی مؤمن ہوگا شام کو کافر، اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کو کافر اپنے دین کو دنیاوی ساز و سامان کے عوض بیچے گا‘‘۔
اور ابو ہریرہؓ کی حدیث بھی ہے کہ:  امتِ مسلمہ اپنی پچھلی تاریخ میں بڑی پُر مصائب اور پُر فتن گھاٹیوں سے گزری ہے اس دوران اللہ نے امت کے لئے ایسے اہلِ علم و فضل اور اہلِ نصح و عدل پیدا فرمائے جن کے زریعے اللہ تعالیٰ نے امت کے بیڑے کو پارا کرایا اور ملّتِ بیضاء کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو کنارے لگایا۔ لہٰذا امت کو فتنوں اور مصیبتوں کے اس طلاطم خیز سمندر میں علماء کا بہت بڑا کردار ہے، اس لئے کہ علماء کے پاس چراغِ رُخِ زیبا ہیں جن کے زریعے لوگوں کو گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے کر آتے ہیں۔ اور آپﷺ نے اس امت کو عزت و سربلندی کی بشارت بھی دی ہے کہ قیامت کی صبح تک اس امت میں اللہ کا امر قائم و دائم رہے گا جیسا کہ بخاری شریف میں مغیرہؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تا قیامت میری امت میں سے ایک جماعت غالب رہے گی‘‘۔ اور وہ جماعت جو غلبے اور نصرتِ یزدانی سے سرفراز ہوگی وہ اہلِ علم کی ہی جماعت ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آجکل امتِ مسلمہ پورے مشرق و مغرب میں بڑے نازک دور سے گز رہی ہے ان سنگین حالات میں امت کو ایسے باعمل علماء کی ضرورت ہے جو اپنے علوم میں رسوخ رکھتے ہوں تاکہ امت کو جو حالات درپیش ہیں ان سے نکلنے کے بارے میں انہیں کوئی حل بتائیں۔ اس لئے کہ انہی علماء کے زریعے امت کی کشتی چل کر اپنی منزل مقصود تک پہنچے گی۔ بلکہ امت کو اپنے نیک اور شفیق فرزندوں کی طرف سے کسی بھی قسم کی جد و جہد کی ضرورت ہے۔ اب ان سنگین حالات میں ہماری امت کی تاریخ میں سے کیسے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک شہسوار پا پیادہ چلے اور اہلِ علم اور اہلِ خیر وعظ و نصیحت سے اور تاثیر و اصلاح سے ایک طرف کو ہو جائیں؟ بلکہ ہر صاحبِ علم اور صاحبِ خیرپر یہ فرض ہے کہ جس قدر بھی وہ حصہ لے سکتے ہیں لے لیں۔ اور ہر ناصح و پیشوا پیش قدمی کرے، اس لئے اللہ تعالیٰ اور اس کی دین کی مدد و نصرت تمام ایمان والوں پر فرض ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (ترجمہ) ’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا‘‘(محمد  ۷)۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے وسیع فضل کی علامت ہے کہ ایمان والوں کا اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی مدد و نصرت کرنا نہ تو اس کی حدبندی ہوسکتی ہے اور نہ ہی کسی حال پر موقوف ہوتی ہے، بلکہ ہم میں سے کسی ایک کا بھی اپنی ذات کے اندر استقامت اختیار کرنا ایسا ہے جیسے اللہ کی مدد و نصرت کرنا۔ لہذٰا ہم میں سے کوئی بھی اس راہ کی کسی بھی چیز کو حقیر نہ جانے، اس لئے آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’بعض اوقات ایک بندہ اللہ کی رضا کا کوئی بول بولتا ہے اور وہ اسے خاطر میں بھی نہیں لاتا لیکن اس کی وجہ سے اللہ جنت میں اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے‘‘۔ (اس حدیث کو امام بخاریؒ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے) لہذٰا دینِ الٰہی کی مدد و نصرت اور امتِ مسلمہ کی حفاظت کرنے میں ہر قسم کی محنت و کوشش نفع بخش اور مبارک ہے چاہے وہ محنت و کوشش لوگوں کی نگاہوں میں کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو، امام بخاریؒ نے اپنی کتاب میں یہ روایت نقل کی ہے کہ: ’’سعد بن ابی وقاصؓ نے ایک مرتبہ اپنے آپکو دوسروں کے مقابلے میں صاحبِ فضیلت سمجھا تو آپﷺ نے یہ دیکھ کر ان سے ارشاد فرمایا کہ: ’’تمہارے کمزوروں کے برکت سے ہی تمہاری مدد و نصرت کی جاتی ہے اور تمہیں رزق دیا جاتا ہے‘‘۔ اور ایک روایت میں ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ: ’’اللہ اس امت کی مدد و نصرت ان کے ضعیف لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کی وجہ سے کرتا ہے‘‘۔ اور ان الفاظ کے ساتھ بھی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ: ’’مجھے کمزوروں کے ہاں ڈھونڈو کہ تمیں تمہارے کمزوروں کی برکت سے ہی رزق دیا جاتا ہے اور ان کے برکت سے ہی تمہاری مدد و نصرت کی جاتی ہے‘‘۔
پس اہلِ علم کی کامیابی اسی بات میں ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری اچھی طرح سے نبھائیں اور امت کو ہلاکت انگیز فتن و مصائب کی بیڑوں اور ہتھکڑیوں سے آزاد کرا کے ان کو بچائیں اور انہیں منزل مقصود تک پہنچائیں اور اس منزل مقصود کو پانا اور اس تک پہنچنا تب تک ناممکن ہے جب تک ایسے اسباب نہ ہوں جن سے امت کی کشتی ان طلاطم خیز موجوں کو چیز نہ لے کہ کشتی کبھی بھی خشکی پر نہیں چل سکتی۔
اور یہ تمام اسباب جو خالص اللہ کی خوشنودی کے لئے کئے جاتے ہیں خصائلِ حمیدہ کی ایک کڑی ہے، جیسے آپﷺ کی پیروی کرنا، خلوت و جلوت میں تقوی اختیار کرنا، امت کی رہنمائی کرنا، اخلاقِ حسنہ سے آراستہ و پیراستہ ہونا، علم و نرمی اور صبر و برداشت وغیرہ جیسے خصائلِ حمیدہ ان صفات خیر میں سے ہیں جن کے زریعے متقی اماموں کی صفات متحقق ہوتی ہیں اور یہ تمام صفات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں شامل ہیں: (ترجمہ) معاف کرنا اپنا لو اور نیکی کا حکم کرو اور جاہل لوگوں سے بے اعتنائی اختیار کرلو’’(الاعراف ۱۹۹)۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: (ترجمہ) ’’اور ہم نے ان میں ایسے امام بنائے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے جب انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے‘‘(سجدہ  ۲۴)۔ بہت سے ایسے اہلِ علم جو اپنے سینوں میں امت کی ہدایت و اصلاح کا غم لئے ہوئے ہیں ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ ان اسباب کی کیا اہمیت و اثر ہے لیکن یہاں ایک بڑا پوشیدہ سبب ہے جن سے اکثر لوگ انجان ہیں، اور وہ سبب امت کو فتن و مصائب سے نکالنے میں مطلوبہ علماء کی ذمہ داری کو پوری کرنے کے لئے پچھلے مذکورہ اسباب سے اہمیت کو کم نہیں کرتا، اور خوب جان لو کہ وہ سبب اہلِ علم کا آپس میں باہم میل ملاپ ہے اور ان کا نیکی، تقوی اور صبر و برداشت کا حکم دینا اور اس پر انکارایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا۔
اہلِ علم کو اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ آپس میں محبت و الفت اجتماعیت و اخوت اور مشورہ کے ربط بڑھائیں، اس لئے کہ بہت سارے اصلاح و خیر کے کام اسی سے مستحکم ہوتے ہیں، اور یہ میل ملاپ اور وعظ و نصیحت بڑے بڑے مصائب و حالات میں بہت سارے امور کے لئے مستحکم ہو جاتے ہیں ان میں زیادہ سرِ فہرست آنے والے نقاط ہیں:
پہلا یہ کہ امت آج جس نازک دور سے گزر رہی ہے اور حالات و مصائب کے جو تھپیڑے کھا رہی ہے وہ لوگوں کی طاقت سے باہر ہے یعنی وہ لوگ چاہے کتنے بھی زیرک و دانا ہوں اور علم میں رسوخ اور پختگی رکھتے ہوں یہ حالات ان کی طاقت سے باہر ہیں، اسی لئے بعض سلفِ صالحین میں سے جن کو کچھ مسائل درپیش ہوتے تو فرمایا کرتے تھے اگر یہ مسئلہ عمر فاروقؓ کو درپیش ہوتا تو اس کے حل کے لئے بدری صحابہ جمع فرما دیتے، تو جب ان کا ایک انفرادی مسئلہ میں طرزِ عمل تھا تو وہ مصائب جو پوری امتِ مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں اور ان کے مستقبل پر اس سے زد پڑتی ہو تو ان کے بارے میں کیا ردِّ عمل ہوگا؟ کیا یہ اتناآسان ہے کہ ایسے میں ایک شخص کا پتہ چل جائے جس کی قمیص ان برستے تیروں کے مقابلے میں بھی طاقتور رہے۔
لہذٰا بہت ضروری ہے کہ خوب انتھک محنت کی جائے اور ان حالات کے مقابلہ میں سیسہ ہلائی ہوئی سیوار کی طرح بن کر ذاتی عناد اور خود مختاری کو پس پشت ڈالنا چاہئے۔ اے اللہ! ہمیں سیدھا راہ سُلجھا ئے اور ہمیں ہمارے شر سے محفوظ فرما!
دوسرا یہ کہ امت کے ایک بڑے حصے کو جو مصائب اور فتنے لاحق ہوئے ہیں ان کا سبب امت کا آپس میں کھچاؤ اور تنازع ہے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ فماتے ہیں: ’’علماء، مشائخ، امراء اور کبراء کے باہمی نا چاقی اور بے اتفاقی کی وجہ سے ہی امت پر دشمن مسلط ہو گیا ہے’’۔
تیسرا یہ کہ اہلِ علم کو چاہئے کہ وہ فتنہ کے دنوں میں آپس میں میل جول رکھیں اور ایک دوسرے کو حق و صبر کی تلقین کریں اس لئے کہ اللہ ان فتنوں سے ہماری حفاظت فرمائے کہ یہ فتنے دلوں کو تبدیل کر کے رکھ دیتے ہیں اور انسان کو ایسے شبہات اور وساوس میں مبتلا کرتے ہیں جو حق کے معرفت کیلئے مانع اور اس کے عزم و ارادہ کے لئے رُکاوٹ بن جاتے ہیں۔
اس لئے رسولﷺ نے فتنوں کو کالی سیاہ رات سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’نیک اعمال میں جلدی کرو اس سے پہلے کہ وہ فتنے ظاہر ہوں جو کالی رات کی طرح سیاہ ہوں گے‘‘۔ اور آپﷺ نے ان اندھے اور بہرے فتنوں سے بھی تشبیہ دی ہے جیسا کہ سنن ابی داؤد میں حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فتنوں کو اندھے اور بہرے فتنوں سے تشبیہ دی ہے اس لئے کہ انسان ان فتنوں میں اندھا بن جاتا ہے کہ اسے حق دکھائی نہیں دیتا اور بہرہ اس طرح کہ وہ ان میں حق کا کلمہ نہیں سُنتا۔
چوتھا یہ کہ اہلِ علم جو کہ انبیاء کے وارث ہیں ان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ امت کا خیر کی طرف راہنمائی کرنے میں حتی الامکان کوشش کریں (یعنی ان کے لئے جس کام میں شر دیکھیں اس سے ان کو خبردار کریں اور ایک ناصح و خیر خواہ اس کو اپنے عقلمند بھائیوں کے مشورہ سے درستگی کے ساتھ بڑی محنت سے پہنچاتا ہے، اور اس پر اللہ تعالیٰ نے بھی اہلِ علم کی تعریف فرمائی ہے جیسا کہ ان کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: (ترجمہ) جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا اور نماز قائم کی ان کا ہر کام مشورہ سے ہوتا ہے اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں (شوریٰ ۳۸)۔
اور دوسروں کے ساتھ مشورہ کرنے سے تو آپﷺ بھی بے نیاز نہیں تھے جبکہ اللہ تعالیٰ آپﷺ کے لئے ہدایت و نصرت کے ضامن بھی بن چکے تھے اس سبب کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو صحابہ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (ترجمہ)  (دینی امور) میں ان سے مشورہ لو اور اگر تم ارادہ کرو تو اللہ پر توکل کرو اس لئے کہ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے (آل عمران  ۱۵۹)۔
اس کے بعد آپﷺ نے اس حکم پر عمل کرنے میں بہت جلدی کی یہاں تک کہ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں جیسا کہ ترمزی شریف میں منقول ہے: ’’میں نے آپ ﷺ سے زیادہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشورہ کرنے میں کسی کو نہیں دیکھا‘‘۔
اس لئے آپﷺ کے ورثاء (علماء) پر بھی واجب ہے کہ وہ اس میں آپﷺ کی پیروی کریں۔
بعض ماہرِ کلام نے کہا ہے کہ: ’’ایک عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی رائے کے ساتھ عقلمند لوگوں کی رائے بھی ملائے، اور اپنی عقل کے ساتھ صاحبِ حکمت لوگوں کی عقل بھی ملائے، اس لئے کہ تنہا رائے اکثر اوقات لغزش کھا جاتی ہے اور تنہا عقل کبھی کبھی گمراہ ہوجاتی ہے‘‘۔
اور بشار بن برد فرماتے ہیں: ’’جب رائے کی نوبت مشورہ تک پہنچ جائے تو پھر ایک خیر خواہ مرد یا خیر خواہ اور عقلمند عورت کے مشورہ سے مدد حاصل کرو اور یہ مشورہ کرنا اپنے اوپر ناگوار اور ذلت نہ سمجھو اس لئے کہ پوشیدہ چیزیں آنے والی چیزوں کے لئے قوت ہوتی ہیں اور اس کو حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اس انقطاع کے ساتھ جو کب سے اہلِ علم اور اہلِ فضل کے تعلق پر چھایا ہوا ہے اور اس کے بغیر اس کو بڑی رُکاوٹوں میں سے شمار کیا جاتا ہے ۔
پانچواں یہ کہ اہلِ علم کے درمیان بہت سا شر اور آپس کے فساد کی وجہ اور اس کا سر چشمہ انکے درمیان کی دوری اور لاتعلقی ہے اور اس سب کو بے رُخی کا بیچ پیدا کرتا ہے اور جسے باطل کے کارندے اور شیطان کی شرارتیں سیراب کرتی ہیں، پس آپس کا میل ملاپ اور وعظ و نصیحت اسباب فُرقت پر دائرے کو تنگ کرنے کی ضمانت ہے، اور یہی بے رُخی کے بیچ کو مٹانے کا ضامن ہے اور الفت و محبت کے پھیلانے کا بھی ضامن ہے، ایک کہاوت ہے:۔ ’’محبت ایسا درخت ہے جس کی جڑ ملاقات ہے‘‘۔

العلماء بين الدور المنشود والدور المفقود

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں