×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نماز / نمازِ عشاء کا وقت

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-01-10 02:02 PM | مناظر:5804
- Aa +

کیا نمازِ عشاء کو رات کے بارہ بجے تک مؤخر کرنا جائزہے ؟

وقت صلاة العشاء

جواب

نمازِ عشاء کا وقت آدھی رات کو ختم ہوجاتا ہے جیسا کہ عبداللہ ابن عمر ؓ  آپسے روایت کرتے ہیں کہ:’’عشاء کا وقت رات کے درمیانی آدھے حصے تک ہے ‘‘۔اور اس حدیث کی تخریج امام مسلمؒ وغیرہ نے (۶۱۲) میں کی ہے اور آدھی رات میں معتبر یہی بات ہے کہ یہ رات کے لمبا اور چھوٹا ہونے اور گرمی اور سردی کی وجہ سے مختلف ہوتاہے اسی اعتبار سے اوقات کو غروب آفتاب سے طلوع فجر تک کا حساب لگایا ہے پھر اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے تو جو اس سے حاصل ہو وہ گزرنے کے ساتھ آدھی رات ہوگی مثلاََ اگر غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک دس گھنٹے ہوں تو غروب آفتاب کے پانچ گھنٹے گزرنے کے بعد عشاء کے آخری اوقات ہوں گے ، اس سے یہ غلطی بھی واضح ہورہی ہے جو بہت سے لوگوں کے درمیان مشہور ہے کہ آدھی رات بارہ بجے ہوتی ہے لہٰذا یہ درست نہیں ہے ۔ واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

02/03/1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں