×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نماز / بارش میں نمازوں کو جمع کرنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-01-10 02:07 PM | مناظر:3158
- Aa +

ایسی نماز کی جگہ (یعنی کام کی جگہ جو مصلیٰ ہوتا ہے)جہاں فرائض نہیں پڑھے جاتے وہاں پر بارش کے وقت نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟

حكم الجمع في المطر

جواب

بارش کے وقت نمازوں کو جمع کیا سکتا ہے جب مشقت اور حرج میں پڑنے کا اندیشہ ہو، جیسا کہ امام مسلم نے عبداللہ بن عمرؓ کی روایت نقل کی ہے کہ آپ نے ظہر اور عصر کی نماز کو جمع کر کے پڑھی اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا کیااور وہ وقت نہ سفر کا تھا نہ کسی خوف کا پھر جب ان سے پوچھا گیا : ایسا کیوں کیا ہے؟ فرمایا: تاکہ میری امت حرج میں نہ پڑے(۷۰۵)۔ اور اس روایت کو امام مالک ؒ نے بھی نقل کیا ہے پھر انہوں نے فرمایا: میرے خیال سے یہ بارش کا واقعہ تھا(۳۳۲)۔اب جو لوگ کام کی جگہ بنے ہوئے مصلیٰ میں نماز پڑھتے ہیں اگر یہ عصر تک وہاں ٹھرتے ہے تو ان کے لئے جمع کرنا جائز نہیں کیونکہ ان کے لئے ہرنماز کو اپنے وقت میں ادا کرنا کوئی مشکل نہیں ، اور اگر یہ عصر سے پہلے وہاں سے نکلتے ہیں اور عصر کی نماز کے لئے واپس آنے میں ان کے لئے مشقت ہے یا اس بات کا ڈر ہے کہ عصر میں جماعت پڑھنے والا نہیں ملے گا تو پھر ان کے لئے جمع کرنا جائز ہے۔یہ اہل علم کے دو اقوال میں سے صحیح قول ہے اور امام احمد ؒ کا بھی یہی مذہب ہے اور جمع بین صلوٰتین میں سب سے اوسع مذہب انہی کا ہے۔واللہ اعلم

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

12/01/1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں