فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نماز / میں نے تشہد میں غلطی کی اور سورۂ فاتحہ بھی نہیں پڑھی میری نماز کا کیا حکم ہے ؟

میں نے تشہد میں غلطی کی اور سورۂ فاتحہ بھی نہیں پڑھی میری نماز کا کیا حکم ہے ؟

تاریخ شائع کریں : 2017-01-10 | مناظر : 1731
- Aa +

کل شب مسجد میں جب میں نماز میں قعدۂ أولیٰ میں بیٹھا اور (التحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک أیھا النبی العربی و أشھد أن لا الہ الااللہ ) پہ پہنچا تو میں نہیں رکا اور مجھ سے سہو ہوگیا اور درودِ ابراہیمی بھی ساری پڑھ لی لیکن بہت جلد مجھے غلطی کا پتہ چلا لیکن جب میں تیسری رکعت میں کھڑا ہوا تو میں سورۂ فاتحہ بھول گیا ، یہ بات پیشِ نظر رہے کہ یہ نماز مسجد میں باجماعت تھی ، اب سوال یہ ہے کہ میری نماز کا کیا حکم ہے ؟

أخطأت في التشهد ولم أقرأ الفاتحة فما حكم صلاتي

آپ کا تشہد میں (السلام علیک أیھا النبی العربی) کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس لئے کہ یہ آپ نے غلطی سے کہا لہٰذا اس سے نماز پر کچھ اثر نہیں پڑھتا۔

باقی جو آپ نے تیسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کو چھوڑا تو یہ زیرِ غور بات ہے اس لئے کہ سورۂ فاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے جیسا کہ صحیحین میں حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ آپنے ارشاد فرمایا:’’جس نے سوۂ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوئی‘‘۔ اور ابوہریرہؓ کی حدیث میں ہے کہ آپنے ارشاد فرمایا:’’جس نے نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن (سورۂ فاتحہ ) نہیں پڑھی تو وہ ناقص الخلقت حمل کی طرح ہے ۔ اس طرح تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔یعنی وہ ناتمام ہے ‘‘۔ اور یہ امام ابوحنیفہ کے علاوہ باقی تمام جمہور علماء اورسب ائمہ کا مذہب ہے ۔ اس وجہ سے آپ کے لئے ابھی نماز کا اعادہ ضروری ہے اور اگر آپ کو دورانِ نماز یاد آیا تو آپ کو چاہئے تھا کہ جس رکعت میں آپ نے سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی تھی اس کی جگہ ایک زائد رکعت پڑھتے ۔ واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

25/09/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں