فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

الحديث / مشرکین کے درمیان کے ہر رہائش پذیر مسلمان سے میں بریٔ الذمہ ہوں

مشرکین کے درمیان کے ہر رہائش پذیر مسلمان سے میں بریٔ الذمہ ہوں

تاریخ شائع کریں : 2017-01-15 | مناظر : 1086
EN
- Aa +

میں نے جب سے یہ واضح وصریح حدیثِ نبوی پڑھی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ :’’ مشرکین کے درمیان ہر رہائش پذیر مسلمان سے میں بریٔ الذمہ ہوں ‘‘ تب سے میں ایک عجیب شش و پنج کا شکار ہوں اس لئے کہ میری ناقص معلومات کے مطابق (بریٔ) کلمہ (براء ۃ) سے مشتق ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ :(برئت من الشئی) تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اس چیز سے سبکدوش ہوگیا یعنی جب آپ کسی چیز کو اپنے سے دورکرتے ہیں اور اپنے اور اس چیز کے درمیان رابطہ توڑتے ہیں( تو اس کو بریٔ الذمہ ہوناکہتے ہیں)

حديث :أنا بريءٌ من كل مسلم مقيم بين أظهر المشركين

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں

آ پ نے جس حدیث کوذکر کیا ہے اس کو اما م ترمذیؒ نے (۱۶۰۴)میں اور اما م ابوداؤد ؒ نے (۲۶۴۵)میں قیس بن ابی حازمؒ کے طریق سے حضرت جریر بن عبداللہ البجلیؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا :’’مشرکین کے درمیان ہر رہائش پذیر مسلمان سے میں بریٔ الذمہ ہوں ‘‘ امام بخاریؒ نے اس حدیث کی تصحیح کرتے ہوئے فرمایاہے کہ یہ حدیث حضرت قیس بن ابی حازم سے حدیثِ مرسل ہے اور اس حدیث کو اہلِ علم نے اہلِ حرب کے ممالک میں اقامت گزینی پر محمول کیا ہے، اما م بیہقیؒ نے حضرت حسنؒ کے طریق سے حضرت سمرہؓ سے روایت کی ہے کہ آپنے ارشاد فرمایا:’’مشرکین کے ساتھ رہن سہن اور اٹھک بیٹھک نہ کروپس جس نے بھی ان کے ساتھ رہن سہن اور اٹھک بیٹھک کی تو وہ ہم میں سے نہیں ‘‘جبکہ حضرت حسن ؒ کا حضرت سمرہؓ سے سماع ثابت نہیں ہے باقی میری آپ کو یہی ہمدردانہ نصیحت ہے کہ فتنہ کے اندیشے سے آپ اپنے ملک واپس لوٹیں 

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں