×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / الحديث / نبی اکرم ﷺ کے غصہ اور بردباری کے متعلق جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں کیسے تطبیق کریں گے ؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-01-15 11:36 AM | مناظر:4978
- Aa +

نبی اکرم ﷺ کے غصہ اور بردباری کے متعلق جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں کیسے تطبیق کریں گے ؟

كيف نجمع بين الأحاديث التي ورد غضب النبي صلى الله عليه وسلم وبين حلمه

جواب

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں

حلم و بردباری سے کسی کا آراستہ و پیراستہ ہونے سے یہ ہرگز مطلب نہیں کہ وہ بالکل غصہ نہیں کرے گااس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ اللہ کے رسولتمام بنی نوع آدم میں اخلاق کے اعتبار سے سب سے زیادہ کامل تھے اس لئے کہ خودحق تعالیٰ شانہ اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ :(ترجمہ) ’’بے شک آپ اخلاق کے اعلیٰ درجہ پر ہیں ‘‘ اور ان کے اسی اعلیٰ اخلاق کا ہی کرشمہ تھا کہ آپ نے کبھی بھی اپنی ذات کے لئے غصہ نہیں کیاجیسا کہ امام بخاریؒ نے (۶۷۸۶)میں او رامام مسلمؒ نے (۲۳۲۸)میں روایت کی ہے کہ :’’آپکو جو بھی اذیت پہنچتی تو کبھی بھی کسی چیز میں اپنی ذات کے لئے انتقام نہیں لیتے لیکن جب اللہ تعالیٰ کے احکامات کی  بے حرمتی ہوتی تو پھر اللہ تعالیٰ کے لئے ضرور انتقام لیتے ‘‘۔ اور امام مسلمؒ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ :’’آپنے کبھی بھی اپنے دستِ مبارک سے نہ کسی عورت کو مارا اور نہ کسی خادم کو الا یہ کہ جب اللہ کی راہ میں مشرکین سے جہاد کرتے (تو پھر کافروں کو مارتے )اور جب بھی ان کو کوئی اذیت پہنچتی تو کبھی بھی اپنی ذات کے لئے انتقام نہیں لیتے لیکن جب اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بے حرمتی ہوتی تو پھر اللہ تعالیٰ کے لئے ضرور انتقام لیتے ‘‘۔لہٰذا آپسے غصہ والی جو روایات آئی ہیں ان کو غضبِ ممدوح پر محمول کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر تھا اور آپکا غصہ بھی آپ کو اللہ کی شریعت سے نہیں نکالتاتھا بلکہ آپکی ناراضگی اور رضامندی دونوں حالتیں حق پر مبنی ہوتی تھیں اور اس پر امام ترمذیؒکی روایت کردہ حدیث (۱۹۹۰)بھی دال ہے جو حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ صحابہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے ساتھ ہنسی مذاح بھی کرتے ہیں تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا‘‘۔


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں