فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

مضامین / عمل کرنے والوں کی اللہ سے قبولیت کی امید رکھنا

عمل کرنے والوں کی اللہ سے قبولیت کی امید رکھنا

تاریخ شائع کریں : 2017-01-23 | مناظر : 1580
- Aa +

  تقبل اللّٰہ

محنت اور تھکان کے بعد ایک خوشگوار مبارکباد اور مکمل دعا ہے، لہٰذا قبولیت عمل کرنے والوں کی خواہش ہوتی ہے (اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں سے ہی قبول فرماتے ہیں۔  المائدہ:۲۷) روایت ہے کہ ’’عبد اللہ بن عمرؓ کے پاس ایک بھکاری آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ اسے ایک دینار دے دو ، بیٹے نے کہا: اے ابا جان اللہ آپ کی طرف سے یہ قبول فرمائے !  (یہ سن کر)  عمرؓ نے فرمایا:  اگر مجھے یہ علم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف سے کوئی ایک سجدہ یا ایک درہم کا صدقہ بھی قبول فرمایا ہے تو غائب مجھے موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگا  (پھر فرمایا)  بیٹے تمہیں پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کس سے قبول فرماتے ہیں؟  اللہ تعالیٰ تو پرہیزگاروں سے ہی قبول فرماتے ہے۔

تقبل اللّٰہ

          ایک ایسا کلمہ ہے جس کے ذریعہ مسلمان اپنی عید کے دن اللہ کی اطاعت میں محنت و تھکان کے بعد ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں، جیسا کہ اصحاب رسولاطاعت و احسان کے بعد عید کے دن جب ایک دوسرے سے ملتے تو یہی کہتے۔

تقبل اللّٰہ

          وہ دعا ہے جس کیے ذریعہ بیت اللہ شریف کی تعمیرکاری سے فارغ ہونے کے بعد ابرہیم خلیل اللہ اور ان کے بیٹے اسماعیل علیھما السلام نے دعا مانگی تھی کہ( اے ہمارے پروردگار ہماری طرف سے اسے قبول فرما! بے شک تو سب کچھ سنتا ہے۔ البقرہ :۱۲۷)

ابن ابی حاتم نے وہب بن ورد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اللہ کے اس فرمان کی تلاوت فرمائی:

(ترجمہ)  ’’اور اس وقت کا تذکرہ سنو جب ابراہیم و اسماعیل بیت اللہ کی بنیادوں کو بلند کرتے ہوئے یہ دعا مانگ رہے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہماری طرف سے اسے قبول فرما بے شک تو سب کچھ سنتا ہے سب کچھ جانتا ہے‘‘( البقرہ :۱۲۷)۔  پھر رو کر فرمانے لگے کہ اے اللہ کے خلیل!  آپ تو اللہ کے گھر کی بنیادیں بلند فرما رہے ہیں اس کے باوجود بھی آپ کو یہ دھڑکا لگا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی طرف سے یہ قبول نہیں فرمائیں گے۔  یہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کا حال ہے کہ عملِ پیہم ،خصائلِ ایمان اور مراتبِ احسان کے باوجود خوف اور ڈر ہوتا ہے کہ قادر مطلق ان کے عمل کو قبول فرمائے گے یا نہیں، جیسا کہ ان کا حال بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

(ترجمہ)   ’’اور وہ لوگ جو ان کے دئے ہوئے مال و دولت میں سے خرچ کرتے ہیں  (اور اس حالت میں بھی)  ان کے دل ڈرے رہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے‘‘(المؤمنون:۶۰)۔ اور ڈر ان کو اس بات کا رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے صدقات و خیرات کو قبول فرمائیں گے یا نہیں؟

تقبل اللّٰہ

ایک مبارکباد اور دعا ہے جو عظیم معنی پر مشتمل ہے۔

تقبل اللّٰہ

  اللہ تعالیٰ کے سامنے کمالِ احتیاج اور انعام و احسان کے اقرار کا وہ اعلان ہے جس سے ہر قسم کا احسان اور فریب خوردگی ناپید ہو جاتی ہے، پس اگر تمام بنی آدم اعمالِ صالحہ کریں تب بھی وہ اللہ کی رحمت اور اس کے انعام و احسان سے بے نیاز نہیں ہیں، امام بخاری (۵۶۷۳) اور امام مسلم (۲۸۱۶) نے حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث سے روایت کی ہے کہ ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  ’’کسی کو بھی اس کا عمل ہر گز جنت میں داخل نہیں کر سکے گا، صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول کیا آپ بھی؟  فرمایا؛  ہاں میں بھی الّا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم مجھے ڈھانپ لے، لہٰذا سیدھی راہ پر چلو اور قریب قریب رہو‘‘۔

بعض اہلِ علم کہتے ہیں کہ :  ’’انسان اگر اپنے جئے ہوئے وقت سے لے کر قبر کی آغوش میں جانے تک بھی اللہ کے سامنے سجدہ ریز رہے پھر بھی اس نے اللہ کا حق ادا نہیں کیا‘‘۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

(ترجمہ)

  جب میں سوچتا ہوں تو میرے گناہ اگر چہ بہت زیادہ ہیں لیکن میرے پروردگار کی رحمت میرے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

  میں نے جو بھی نیک عمل کئے اس میں مجھے ذرا بھی طمع و لالچ نہیں لیکن اللہ کی رحمت میں مجھے بہت زیادہ طمع و لالچ ہے۔

تقبل اللّٰہ

  اس کے ذریعہ وہ شخص بھی دعا مانگتا ہے جس نے اپنے عمل میں خوب محنت کی ہو اور اسے اچھی طرح سرانجام دیا ہو، اور وہ شخص بھی جس نے اپنے چلنے میں تقصیر  (کمی کوتاہی)  کی ہو اور پیچھے رہا ہو، اس لئے کہ سب کے سب اللہ کے محتاج ہیں وہ ہر دم اپنے کریم پروردگار سے یہی سوال کرتے ہیں کہ وہ ان پر قبولیت کی سخاوت کرے، اس کی وجہ سے تمام انسانوں پر اپنی برتری اور عجب سب رفو چکر ہوتا ہے (اسی طرح تم پہلے سے تھے تو اللہ نے تم پر احسان کیا)  (بلکہ اللہ تم پر احسان کرتا ہے کہ ایمان کی طرف تمھاری راہنمائی فرمائی اگر تم سچے ہو)۔

تقبل اللّٰہ

  یہ ایسا کلمہ ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو یاد رہتا ہے کہ اصل خوشی تو اللہ کی طرف سے قبول ہونے سے پوری ہوتی ہے، کیا ہی اس خوشی کے کہنے!  اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ جیسے ہمیں عید کی خوشی کا مزہ چکھایا اسی طرح اپنی ملاقات کے وقت بھی ہمیں خوشی کی لذت سے محروم نہ رکھے  (آمین!)۔

منية العاملين القبول من رب العالمين

 

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں