فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

الحديث / لا عدوی و لا طیرۃ اور فرمن المجذوم فرارک من الأسد کے درمیان تطبیق

لا عدوی و لا طیرۃ اور فرمن المجذوم فرارک من الأسد کے درمیان تطبیق

تاریخ شائع کریں : 2017-01-25 | مناظر : 6057
EN
- Aa +

ﷺ کے فرمان مبارک : لا عدوی ولا طیرۃ (بیماری لگنا اور بدشگونی لینایہ لغو بات ہے) اور اس فرمان مبارک : فرمن المجذوم فرارک من الأسد (جذامی شخص سے ایسا بھاگ جیسا کہ شیر سے بھاگتا ہے) کے درمیان کیسے تطبیق کریں گے؟

الجمع بين حديث: (لا عدوى ولا طيرة) و: ( وفر من المجذوم فرارك من الأسد

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

علماء کی ایک جماعت کا یہ مذہب ہے کہ  (الفرار من الجذوم)  والی حدیث  (نفی العدوی)  والی حدیث سے منسوخ ہوچکی ہیں لیکن اکثر علماء کا مذہب یہ ہے کہ وہ احادیث ناسخ نہیں ہوئیں لہٰذا یا تو ان میں تطبیق کرنی چاہئے یا پھر ان میں سے کسی ایک کو راجح اور دوسرے کو مرجوح قرار دینی چاہئے اور علماء کی ایک بڑی جماعت نے ان دونوں میں کوئی نہ کوئی طریقہ اختیار کیا ہے لیکن جو بات میری سمجھ میں آئی ہے تو وہ یہ کہ ان میں تطبیق دو طرح سے ممکن ہے:۔

پہلا طریقہ یہ کہ جن احادیث میں مرض نہ پھیلنے کی نفی کی گئی ہے تو وہ درحقیقت زمانہء جاہلیت کے عقیدہ کی نفی کی گئی ہے اور وہ عقیدہ یہ تھا کہ مرض اللہ تعالیٰ کی مرضی و منشا کے بغیر دوسروں تک منتقل ہوتا ہے اور خود بخود پھیل جاتا ہے باقی آدمی کو مجذوم وغیرہ سے بھاگنے کا جو حکم دیا گیا ہے تو وہ آپکی طرف سے اس بات کی وضاحت ہے کہ مرض کا پھیلنا بھی مراض کا ایک کی طرف سے دوسرے کی طرف منتقل ہونے کے اسباب میں سے ہے،  لہٰذا آدمی کو بھاگنے کے حکم دینے میں اسباب کا اثبات ہے جبکہ مرض کے نہ پھیلنے کی نفی میں اس بات کی صراحت ہے کہ وہ تاثیر کے ساتھ منتقل نہیں ہوتا۔

دوسرا طریقہ یہ کہ مرض کے پھیلنے کی نفی کرنے میں قطعی طور پر اس کی نفی ہے اور اس بات کی نفی ہے کہ یہ اثرانداز نہیں ہوتا اس لئے کہ بسا اوقات لوگ مریض کے ساتھ میل ملاپ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو کچھ بھی ضرر لاحق نہیں ہوتا،  باقی آپنے مجذوم سے بھاگنے کا جو حکم ارشاد فرمایا ہے وہ صرف اس وجہ سے ہے تا کہ وہ اللہ کی مرضی و منشا کے مطابق اس مرض میں مبتلا نہ ہو اور اس طرح وہ یہ گمان کرے گا کہ آپنے تو مرض کے نہ پھیلنے کی خبر دی ہے اور وہ دی گئی خبر خلافِ واقع ثابت ہو گئی تو اس طرح سے وہ ان چیزوں کا اثبات کر دے گا جن کی اللہ اور اس کے رسولنے نفی فرمائی ہے۔

بہر کیف !  ایک بندہ مؤمن کو یہی عقیدہ رکھنا چاہئے کہ آپکے ارشادات و فرامین برحق ہیں تو جو بھی بات آپسے ثابت ہے اس میں کوئی تعارض نہیں ہے اور جو بھی تعارض آپکے ارشادات و فرامین میں دیکھنے والے کو نظر آ گئی ہے تو وہ تعارض در حقیقت فھم و ذہن میں ہوتا ہے نہ کے احادیث میں اس لئے کہ احادیث تو سب الہامِ ربانی ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وہ اپنی خواہش کا کوئی بول نہیں بولتا بلکہ وہ جو بھی بولتا ہے تو  (اللہ کی طرف سے)  کی گئی وحی کے مطابق بولتا ہے  (النجم:  ۴-۳)۔

باقی اللہ بہتر جانتا ہے

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں