فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

الحديث / علمِ علل کے مسائل

علمِ علل کے مسائل

تاریخ شائع کریں : 2017-01-27 | مناظر : 1595
EN
- Aa +

اگر ابو زرعہ اور ابو حاتم جیسا علمِ علل کا ماہر علت کو بیان کئے بغیر کسی حدیث کو معلول قرار دے، جبکہ حدیث کی ظاہری سند اور اس کے طریق صحیح اور سالم ہوں تو وہ اگر وہ علت جب تک پوشیدہ ہو تو کیا ہم حدیث کو صحیح قرار دیں گے، یا اسے ضعیف قرار دیں گے، یا پھر وہاں توقف اختیار کریں گے؟؟

مسائل في علم العلل

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

علمِ علل اور اس کی معرفت ایک پوشیدہ ومخفی علم ہے،  یہ ایسا علم ہے جو بہت سے محدثین اور علماء پر بھی مخفی رہتا ہے یہاں تک کہ بعض حفاظِ حدیث جیسا کہ عبد الرحمان بن مھدی اور ابو حاتم ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہمارا علمِ علل کو جاننا جاہل کے نزدیک نجومیت کی طرح ہے۔  اور اس کی وجہ یہ ہے کہ علمِ علل کا راستہ ثقہ راویوں تک پہنچتا ہے یعنی وہ احادیث جن کا ظاہر سالم و صحیح ہو،  ابو عبد اللہ الحاکم کتاب  (معرفۃ علوم الحدیث  :ص: ۱۱۲)  میں فرماتے ہیں کہ: حدیث کو اور بھی کئی وجوہات کی بناء پر معلول قرار دیا جاتا ہے صرف جرح کا اس میں کوئی دخل نہیں اس لئے کہ مجروح راوی کی حدیث ضعیف و ساقط ہوتی ہے،  اور حدیث کی علت ثقات کی احادیث میں بہت زیادہ ہوتی ہیں جیسا کہ وہ کسی ایسی حدیث کو روایت کریں جس میں علت ہو اور ان پر وہ علت مخفی ہو جائے اور ہمارے ہاں اس میں حجت علم و فہم اور معرفت ہے۔

باقی آپ نے جو سوال کیا ہے کہ اس حدیث کی تصحیح جس میں علمِ علل کے کسی عالم نے کلام کیا ہو کہ اس میں علت ہے اور وہ علت آپکو بظاہر نظر نہ آئے تو پھر نہج درست نہیں ہے،  حافظ بن حجرؒ نے  (النکت:  ۷۱۱/۲)  میں لکھا ہے کہ:  حدیث کی انواع میں یہ فن انتہائی باریک اور مبہم ہے اس کو وہی شخص سر انجام دے سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے رواۃ کے مراتب کو جاننے کے لئے حد درجہ فہم، گہرا علم اور پختہ معرفت عطا فرمائی ہو اس لئے اس میں سوائے اس فن کے ماہرین نے کسی نے کلام نہیں کیا اس لئے اب وہی مرجع الناس ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس علم کی معرفت اور اس کی باریک بینیوں سے ان کو مطلع فرمایا ان لوگوں کے مقابلے میں جن کو اس کا تجربہ نہیں ہے۔

کبھی کبھی ان میں سے معلل کی عبارت بھی عاجز آجاتی ہے تو اس کے دل میں ایک روایت کو دوسری روایت پر ترجیح دینے والی جو بات ہوتی ہے اس کو واضح نہیں کر پاتی۔  پس جب بھی ہمیں کوئی ایسی حدیث ملے اور پھر کسی ایسے امام نے اس پر معلول کا حکم لگایا ہو جو مرجع خلائق ہو تو پھر أولی اور بر تر بات یہی ہے کہ اس بات میں اس کی اتباع کی جائے جیسا کہ جب وہ کسی حدیث کو صحیح قرار دیتا ہے تو ہم اس میں اس کی اتباع کرتے ہیں۔  اور یہ تب ہے جب اس معلل کے لئے ان میں سے کوئی حدیث مخالف نہ ہو اور جہاں علت کی اثبات کی تصریح بھی ہو اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور حدیث پائی جائے جس نے اس کو صحیح قرار دیا ہو تو پھر ایسی صورت میں ان دونوں کے کلام کے درمیان ترجیح کو مدِّ نظر رکھیں گے

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں