فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

الحديث / حدیث: ’’ اے اللہ آخرت میں مجھے جو عذاب دینا ہے وہ دنیا ہی میں مجھے دے دے‘‘۔

حدیث: ’’ اے اللہ آخرت میں مجھے جو عذاب دینا ہے وہ دنیا ہی میں مجھے دے دے‘‘۔

تاریخ شائع کریں : 2017-01-27 | مناظر : 2784
- Aa +

امام مسلمؒ نے حضرت انسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے مسلمانوں میں سے ایک آدمی کی عیادت فرمائی جو کمزوری کی وجہ سے چُوزے کی طرح ہو گیا تھا، (جب اللہ کے رسول ﷺ نے اسے دیکھا) تو اس سے دریافت فرمایا : کیا تم کسی چیز کی دعا مانگا کرتے تھے ؟ اس نے عرض کی: جی ہاں میں یہ دعا مانگا کرتا تھا کہ اے اللہ ! آخرت میں مجھے جو عذاب دینا ہے وہ دنیا ہی میں مجھے دے دے ۔ اللہ کے رسولﷺ نے جب یہ سنا تو ارشاد فرمایا: سبحان اللہ ! (کیا کہنے تیرے) اللہ کے بندے تو اس کی طاقت کہاں رکھ سکتا ہے، اگر تم نے دعا مانگنی ہی تھی تو یہی کہتے کہ اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھی بہتری عطا فرما اور آخرت میں بھی ہمیں بہتری عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ راوی کہتا ہے کہ اس بعد اللہ کے رسولﷺ نے اس کے لئے دعا فرمائی تو وہ صحتیاب ہو گیا ۔ اب مجھے اس آدمی کے اس جملے (ما کنت معاقبی بہ فی الآخرۃ) سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ جب آخرت میں عذاب کا ہونا لازمی ہے اور یہ پہلے سے اللہ کے علم میں ہے کہ اسے آخرت میں عذاب ہوگا تو دنیا میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے مجھے اس حدیث کے متعلق اشکال ہو گیا ہے وہ یہ کہ ذہن میں تو یہی آتا ہے کہ اس آدمی کے عذاب کا طلب کرنا ایک معقول امر ہے کہ اے اللہ جب آخرت میں مجھے عذاب دینا ہے تو دنیا میں ہی دے دے ، جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے کئی گناہ ہلکا ہے، اس لئے دنیا میں آپﷺ کے انکار کی وجہ مجھ پر ظاہر نہیں ہوئی لہٰذا آخرت میں پھر کیسے ہوگا ؟ کیا اس سے یہی مراد ہے جیسا کہ اللہ کے رسولﷺ نے اس آدمی سے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ دنیا میں عافیت طلب کرے اور آخرت میں اس کا مواجہ کرے جسکی طاقت مخلوق نہیں رکھ سکتی ؟ اس بارے میں ازارہِ کرم ہمیں فتوی دیں !

حديث (اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّن

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

ایک ایمان والے پر واجب ہے کہ وہ اپنی رائے قرآن و حدیث کے نصوص کے سامنے مشکوک سمجھے اس لئے کہ قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: جس تک باطل کی کوئی رسائی نہیں ہے،  نہ اس کے آگے سے،  نہ اس کے پیچھے سے،  یہ اس ذات کی طرف سے اتاری جا رہی ہے جو حکمت کا مالک ہے،  تمام تعریفیں اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔  (فصلت:  ۴۲)  اور حدیث کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادِ گرامی ہے: وہ اپنی خواہش کا بول نہیں بولتے بلکہ جو بھی بولتے ہیں تو وہ ان کی طرف کی گئی وحی کے مطابق بولتے ہیں۔  (النجم:  ۴-۳)  باقی آپ کا یہ کہنا کہ اس آدمی کے عذاب کا طلب کرنا ایک معقول امر ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جسے بھی اللہ تعالیٰ کے عقاب و عذاب کی شدت کا علم ہے اس کے لئے ایسی دعا مانگنا صحیح نہیں ہے اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم عفو و درگزر اور وسیع رحمت سے اچھی طرح آشنا ہے اس کے لئے ایسا مانگنا درست نہیں ہے،  اسی لئے تو اللہ کے رسولنے اس آدمی سے ارشاد فرمایا کہ:  ’’تم اس کی طاقت نہیں رکھ سکتے‘‘  کیا ہی اچھا ہوتا اگر تم یہ دعا مانگتے کہ اے اللہ!  دنیا و آخرت کی بہتری ہمیں نصیب فرما۔  اس طرح اللہ کے رسولنے اس آدمی کو دنیا و آخرت کے خیروں کی طرف متوجہ فرمایا کہ دنیا کی بہتری ہر اس چیز پر مشتمل ہے جس کو تم محسوس کرتے ہو یعنی عافیت،  رزق کی و سعت،  حال کی درستگی،  عمل پہ استقامت،  اور آفات سے امن و سلامتی اور آخرت کی بہتری سے مراد جنت میں داخل ہونا،  اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہونا اور اسی طرح آخرت کے شدائد اور ہولناک احوال و مناظر سے امن و سلامتی ہے،  پھر ان دنیا و آخرت کی بہتریوں کو اس طرح ختم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ جہنم کے عذاب کے اسباب ،  معاصی کے ارتکاب اور گناہوں میں نہ پڑنے کی اللہ سے دعا مانگی ہے،  پس جہنم سے حفاظت کا سوال محارم اور گناہوں سے اجتناب اور شبہات اور حرام کے ترک کرنے کی اعانت کے سوال کا تقاضہ کرتا ہے،  اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ آپنے اس آدمی کو دنیا میں عافیت اور آخرت میں عذاب کی طرف متوجہ نہیں فرمایا،  لہٰذا اس بات سے متنبہ اور چوکس رہو اور دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرو  !!

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں