فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

الحديث / احادیث کو ضعیف قرار دینا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس میں مخالف آدمی کو بدعتی قرار دیا جائے۔

احادیث کو ضعیف قرار دینا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس میں مخالف آدمی کو بدعتی قرار دیا جائے۔

تاریخ شائع کریں : 2017-01-27 | مناظر : 1864
EN
- Aa +

حضرات علماء کرام، ہمارا آپ سے ایسے دو علمی مسائل کے بارے میں سوال ہے جس نے سلفی نوجوانوں اور ہمارے طالب علموں کے ہاں ایسا فتنہ و افتراق برپا کر دیا ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو بدعتی قرار دے کر ایک دوسرے کو چھوڑ دیا ہے ۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ: امام مسلمؒ نے اپنی کتاب کی احادیث کو علمی ترتیب کے اعتبار سے مرتب کیا ہے اور اس میں الأصح فالأصح کی رعایت رکھی ہے، اور اصول میں قوی احادیث کو مقدم رکھتے ہیں اور جن میں شواہد اور متابعات کے اعتبار سے تھوڑا سا ضعف ہوتا ہے تو وہ زیادہ تر ابواب میں ہوتے ہیں، جیسا کہ وہ اپنی کتاب میں بعض مناسبات میں احادیث کی علتیں بیان کرتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ: محدثین میں سے متأخرین اور مقدمین کے درمیان اختلاف دیکھا جاتا ہے جیسا کہ بعض متأخرین یا معاصرین ایسی حدیث کو صحیح قرار دیتے ہیں جس کے معلول ہونے پر متقدمین کا اجماع و اتفاق ہوتا ہے، یا ان احادیث کو ضعیف یا معلول قرار دیتے ہیں جن کی ظاہری اسانید پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی صحت پر متقدمین کا اتفاق ہوتا ہے۔ تو (اس طرح) بعض کہتے ہیں کہ متقدمین پر رد کرنے اور ان پر چڑھائی کرنے سے پہلے انہوں نے تصحیح و تعلیل کے اعتبار سے جس حدیث پر اتفاق کیا ہے تو اس سلسلے میں اس کی طرف رجوع کرنی چاہئے، ان کے کلام کے متعلق جانکاری حاصل کرنی چاہئے اور ان کی دلیل میں غور و خوض کرنا چاہئے، اس لئے کہ ان کو اس بارے میں زیادہ علم ہے ، تو کیا یہ مسائل ان بڑوں اصول میں سے ہیں جن میں مخالف کو بدعتی قرار دیا جاتا ہے، اور اس کو گمراہ سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے ؟ ان دو مسئلوں میں ہم آپ کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اسلام اور اہلِ اسلام کی طرف سے۔

تضعيف الأحاديث ليست مسألة يبدع فيها المخالف

اما بعد۔۔۔

اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے اس طرح کے مسائل میں مخالف آدمی کو بدعتی قرار نہیں دیا جاتا بلکہ یہ تو ان اجتہادی مسائل میں سے ہیں جن پر تبدیع کے احکام مرتب نہیں ہوتے لہٰذا کسی کو بدعتی قرار دینے میں آپ کو توقف اختیار کرنا چاہئے اس لئے کہ یہ بہت بڑا موضوع ہے جس کے لئے کافی علم و نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔

پہلا مسئلہ:

جس میں صحیح کا ذکر ہے اور اس بارے میں آپ ان کتابوں کی طرف رجوع کریں جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے درمیان موازنہ کو ذکر کرتی ہیں۔

دوسرا مسئلہ:

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ متقدمین علم میں کافی دسترس بھی رکھتے تھے اور وہ تمام علوم میں کافی یدِ طولیٰ رکھتے ہیں لیکن کسی طالب علم کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ ان کے اقوال سے ایسے مسائل مستنبط کرے جس کو تصحیح و تضعیف کا میزان بنائے اور پھر متأخرین میں سے ابن صلاح و ابن حجر وغیرہ جیسے اس علم کے ائمہ کے اقوال کی اقتداء کئے بغیر ان قوائد کو متقدمین کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں