فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / بائبل پڑھنے کا حکم

بائبل پڑھنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-02-20 | مناظر : 1431
- Aa +

میرے صد قابلِ احترام ! السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔ میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ بائبل کو پڑھنے کا کیا حکم ہ ؟

حكم قراءة الإنجيل

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

بعض اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ کسی صاحبِ ایمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اہلِ کتاب کی آسمانی کتابوں  (تورات و انجیل)  کو پڑھے اور ان حضرات کا استدلال آپکی اس حدیث مبارکہ سے ہے جس میں آیا ہے کہ اللہ کے رسولنے جب حضرت عمرؓ کو تورات پڑھتے ہوئے دیکھا تو ناراضگی اور خفگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے عمر !  اگر موسی کلیم اللہ بھی یہاں ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر اس کی پیروکاری کرتے تو تم سب راہِ راست سے بھٹک جاتے‘‘ ۔ یہ روایت ایسے کئی طریق سے وارد ہوئی جس میں اہلِ علم نے کلام کیا ہے،  امام حافظ بن حجر عسقلانیؒ فتح الباری  (۵۲۵/۱۳)  میں اس حدیث کے طرق کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ یہ اس حدیث کے تمام طرق ہیں، اس حدیث میں اگرچہ قابلِ استدلال کوئی چیز نہیں ہے لیکن اس کا مجموعہ اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ اس کی اصل موجود ہے‘‘۔

اہلِ علم کی ایک بڑی جماعت یعنی احناف شوافع و حنابلہ کے فقہاء نے بائبل کو نہ پڑھنے اور اس کے عدمِ جواز کی صراحت فرمائی ہے،  اور انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے اور حافظ بن حجر عسقلانیؒ اجماع کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:  ’’اگر اجماع ثابت ہو ہی گئی ہے تو پھر اس میں کلام کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور انہوں نے اس کی حرمت کے اجماع کو اس صورت میں قید کیا ہے کہ اس کی کتابت اور اس کے دیکھنے میں مشغول ہو ،  اگر اس کے علاوہ کوئی اس کے ساتھ مشغول ہوتا ہے تو مطلوب حاصل نہیں ہوتا،  اس لئے کہ اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اس کے علاوہ کسی چیز کے ساتھ مشغول ہونے کے بجائے اس سے مشغول ہو تو یہ جائز ہے،  اور اگر محض مشغولیت کا ارادہ کرے تو پھر یہ محلِّ نظر ہے‘‘۔  پھر حافظ بن حجرؒ نتیجہ اور لب لباب کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:  ’’جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ راسخ کے برخلاف ہے کہ یہ کراہیت  ’’کراہیت تحریمی نہیں بلکہ کراہیت تنزیہی‘‘  ہے،  باقی اس مسئلہ میں أولیٰ أور أحسن یہی ہے کہ جس کا ایمان زیادہ مضبوط اور راسخ نہیں ہے تو اس کے لئے بائبل کا دیکھنا جائز نہیں ہے اور جس کا ایمان مضبوط و راسخ ہے تو اس کے لئے جائز ہے،  خاص کر جب مخالف پر رد کرنے کی ضرورت پڑے اور اس پر متقدمین اور دورِ حاضر کے ائمہ کرام کی نقل کردہ توراتی مواد دلالت کرتا ہے، اور ان ائمہ کرام نے یہودیوں کے بارے میں یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی کتابوں سے آپکی تصدیق کی ساری روایات نکال لی ہیں اور اگر ان کا اعتقاد اس میں جواز نظر کا نہ ہوتا تو ایسا نہ کرتے ۔

حافظ بن حجرؒ نے اس کو بڑے اچھے انداز میں تفصیل سے بیان کر دیا ہے،  اس کا لب لباب یہ ہے کہ ضرورت اور مصلحت کے پیش نظر اہلِ کتاب کی مذہبی کتابوں کو پڑھنا جائز ہے اور شاید اس کا استدلال امام بخاری کی روایت کردہ حدیث (۳۶۳۵) اور امام مسلم کی روایت کردہ حدیث (۱۶۹۹) سے ہو جو حضرت نافع کے طریق سے حضرت بن عمرؓ سے مروی ہے کہ دو یہودیوں نے اپنا منہ کالا کیا جب انہیں اللہ کے رسولکے پاس لایا گیا تو اللہ کے رسولنے ان سے اس بابت دریافت فرمایا کہ:  ’’سنگساری کے متعلق تم اپنی کتاب تورات میں کیا پاتے ہو ؟‘‘  تو وہ کہنے لگے کہ ہم انہیں کوڑے لگوا کر رسوا کرتے ہیں،  یہ سن کر عبد اللہ بن سلام کہنے لگا کہ تم نے جھوٹ بولا آپ کی کتاب میں سنگساری کے بارے میں بھی حکم موجود ہے،  تو جب تورات کو لا کر کھولا گیا تو ان میں سے ایک نے رجم والی آیت پر انگلی رکھی،  اور اس کی اگلی پچھلی آیت پڑھنے لگا،  یہ سن کر عبداللہ بن سلام نے ان سے فرمایا کہ ذرا اپنا ہاتھ اٹھاؤ،  جب انہوں نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچھے رجم والی آیت تھی۔  لہٰذا اللہ کے رسولنے بطورِ مصلحت کے تورات کی قرأت کی جو اس کے جواز پر دلالت کرتا ہے،  اور اگر اہلِ کتاب کی کتابوں سے نہ تو کوئی نفع مقصود ہو اور نہ ہی کوئی نقصان تو اس وقت ان کا پڑھنا مکروہ ہے جیسا کہ پیچھے حضرت عمرؓ کے مذکورہ واقعہ میں گزر چکا ہے کہ اللہ کے رسولنے خفگی اور ناراضگی کا اظہار فرمایا اور اس سے حرمت کا پہلو نہیں بلکہ کراہت کا پہلو لازم آتا ہے جو کہ ایک أولیٰ بات ہے جیسا کہ پیچھے حافظ بن حجرؒ نے فتح الباری میں اس کو ذکر کیا ہے۔

اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس کا استدلال امام بخاری کی روایت کردہ حدیث (۴۴۸۵) سے ہو جو کہ ابو سلمہ کے طریق سے حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ اہلِ کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھ کر اہلِ اسلام کے لئے عزلی زبان میں اس کی وضاحت کرتے تھے،  یہ دیکھ کر اللہ کے رسولنے فرمایا:  ’’اہلِ کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ہی تکذیب بلکہ تم یہ کہا کرو: جو کتاب ہم پر اتاری گئی ہے ،ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو تم لوگوں پر اتاری گئی ہے اور اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں (اس لئے کہ) ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے ہم سب اس کے سامنے سرِخم تسلیم ہیں‘‘۔  (العنکبوت: ۴۶)۔

باقی اگر اس صورت میں ضرر کا اندیشہ غالب ہو تو پھر اس کی حرمت میں کوئی شک و شُبہ نہیں،  اس لئے کہ حرام کردہ چیزوں کے وسائل و ذرائع بھی حرام ہوتے ہیں۔  (باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے )۔

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

20/ 8 /1427هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں