فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / بیوٹی پارلروں میں عورت کا کام کرنا

بیوٹی پارلروں میں عورت کا کام کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-02-20 | مناظر : 1603
- Aa +

میرے صد قابلِ احترام! السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔ میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ بیوٹی پارلر میں ایسی عورت کے کام کرنے کا کیا حکم ہے جو اس بات سے یکسر ناشنا سا ہوتی ہے کہ جس عورت کا وہ بناؤ سنگار کر رہی ہے آیا وہ اپنے خاوند کے لئے سج رہی ہے یا پھر وہ اس طرح بن ٹھن کر غیر مردوں کے سامنے آتی ہے ؟

عمل المرأة في صالونات التجميل

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

درحقیت بناؤ سنگار اور زیب و زینت ایک مباح و جائز أمر ہے اس لئے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’کہہ دو (اے پیغمبر!) آخر کون ہے جس نے زینت کے اس سامان کو حرام قرار دیا ہو جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور (اسی طرح) پاکیزہ رزق کی چیزوں کو ؟‘‘۔  (الأعراف  :۳۲)۔  اسی طرح مسلم شریف کی حدیث (۹۱) میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آپسے دریافت فرمایا کہ ایک آدمی اگر اپنے لئے اچھی پوشاک اور اچھی پاپوش (جوتے) پسند کرتا ہے تو آپ اس بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟  آپنے یہ سن کر ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالٰ خود بھی خوبصورت ہے اور وہ خوبصورت چیزوں کو پسند بھی فرماتا ہے‘‘۔ لہٰذا یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں خوبصورتی ایک محبوب و محمود أمر ہے۔ ابن القیمؒ نے اپنی کتاب (الفوائد صفحہ نمبر: ۱۸۴) میں فرماتے ہیں: ’’عمومی طور پر اس میں ہر چیز کی خوبصورتی داخل ہے‘‘۔

لیکن اس میں اگر باطنی خوبصورتی کو ظاہری خوبصورتی پر مقدم رکھی جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے اس لئے کہ اللہ عزّو جلّ نے جب بندوں کے لئے لباس کی نعمت کو گنوایا کہ یہ آپ کے بدن اور شرمگاہوں کو چھپاتا ہے اور اس سے ظاہری خوبصورتی حاصل ہوتی ہے اس کے بعد ارشاد فرمایا : ’’بہترین لباس تقویٰ اور پارسائی ہی کا ہے‘‘ ۔ (الأعراف  :۲۶) ۔

بہرکیف ! ظاہری زیب و زینت اور بناؤ سنگھار مردو زن کے لئے ایک مشروع أمر ہے، لیکن مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کو بناؤ سنگھار کی زیادہ ضرورت ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور جو زیوروں میں پالی پوسی جاتی ہے اور بحث و مباحثے میں اپنی بات کھل کر بھی نہیں کہہ سکتی ‘‘ ۔ (الزخرف: ۱۸)۔ اس لئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کے لئے سونا اور ریشم وغیرہ سے زیبائش و آرائش حاصل کرنے کو مباح و جائز قرار دے دیا ہے۔

باقی رہا آپ کا یہ سوال کہ بیوٹی پارلر میں بناؤ سنگھار کرنے والی عورت کے کام کرنے اور اس کام پر اجرت لینے کا کیا حکم ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک مباح و جائز أمر ہے اس لئے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ نے خرید و فروخت کو جائز اور سود کو حرام قرار دیا ہے‘‘۔ (البقرۃ:۲۷۵)۔ یہی جمہور علماء کا مذہب ہے سوائے امام احمدؒ کے انہوں نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے، اور بعض اہلِ علم نے حسن بصریؒ سے  اس کی حرمت کا قول نقل کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو یہ کام فی الأغلب حرام سے خالی نہیں ہوتا یا پھر اس کی حرمت کی وجہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کرنا لازم آتا ہے۔

ان سب دلائل کے بعد مجھ پر یہی بات اشکارا ہوئی ہے کہ جب تک اس بناؤ سنگار کے عمل پر اجرت حرام طریقہ سے نہ لی جائے تب تک یہ عمل جائز ہے اور حرام سے مراد یہ ہے کہ عورت کی بھنویں یا پلکیں وغیرہ تراشی جائیں یا پھر ایسے طریقہ سے اس کا بناؤ سنگار کیا جائے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولنے منع فرمایا ہے ۔

باقی اگر عورت کسی حرام مقصد کے لئے بناؤ سنگار کرے تو یہ مسئلہ تین حالتوں سے خالی نہیں ہے:۔

پہلی حالت:  یہ اگر بیوٹی پارلر میں کام کرنے والی عورت کو اس بات کا اچھی طرح علم ہو کہ یہ عورت کسی غیر محرم کے لئے بناؤ سنگار کر رہی ہے تو پھر اس کے لئے اس کا بناؤ سنگار اور اس پر لینے والی اجرت ناجائز و حرام ہے۔

دوسری حالت:  یہ اگر بیوٹی پارلر میں کام کرنے والی عورت کو اس بات کا اچھی طرح علم ہو کہ یہ عورت کسی مشروع و مباح کام کے لئے بن ٹھن کے سج دھج رہی ہے تو پھر اس کے لئے یہ عمل اور اس پر لینے والی اجرت دونوں جائز و مباح ہیں۔

تیسری حالت:  یہ اگر بیوٹی پارلر میں کام کرنے والی عورت کو یہ غالب گمان ہو کہ یہ عورت کسی حرام مقصد کے لئے زیبائش کر رہی ہے تو یہ صورت بھی ناجائز ہے، اس لئے کہ غالب گمان یقینِ کامل کے درجہ میں ہوتا ہے، البتہ اگر اس کا غالب گمان نہ ہو تو پھر اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس طرح اس کے لئے عمل اور اجرت دونوں حلال ہیں۔باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ۔

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

16 /9 /1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں