فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / غیر اسلامی ممالک میں نسوانی برہنہ لباس کے بوتیک

غیر اسلامی ممالک میں نسوانی برہنہ لباس کے بوتیک

تاریخ شائع کریں : 2017-02-20 | مناظر : 1099
- Aa +

میرے صد قابلِ احترام! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا غیر اسلامی ممالک میں نسوانی برہنہ لباس کے بوتیک(یعنی اس کا بیچنا) جائز ہیں ؟

المتاجرة بالملابس النسائية الفاضحة في بلاد غير إسلامية

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

ایسی بیع جس سے حرام مقصود ہو اس کے حکم میں اہلِ علم کو دو اقوال ہیں۔ مثلاً کسی ایسے شخص کو انگور یا اس کا شیرہ بیچنا جو اس سے شراب بناتا ہو،  یا ایسے شخص کو لکڑی بیچنا جو اس سے آلہ لہو و لعب یا صلیب اور موتیاں بناتا ہو اگر یہ صورت ہو تو اس میں اہلِ علم کا اختلاف ہے، اور یہ تب ہے جب اسے اس بات کا پختہ علم ہو یا اس کا غالب گمان ہو کہ وہ ان چیزوں کو حرام مقصد کے لئے استعمال کرے گا۔

پہلا قول یہ ہے: کہ یہ مطلقا حرام اور ناجائز ہے، اور أصح أقوال کے مطابق جمہور علماء میں سے مالکیہ، شافعیہ ، حنابلہ اور ظاہر یہ کا یہی مذہب ہے ان سب کا استدلال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی سے ہے: ’’اور تم باہم گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کی تعاون نہ کرو‘‘ ۔ (المائدۃ: ۲)۔ اس کے علاوہ اس طرح اور بھی ان کے کچھ دلائل ہیں۔

دوسرا قول یہ ہے: کہ یہ جائز ہے، اس قول کو ابن المنذر نے حسن بصری عطاء بن ابی رباح اور سفیان ثوری سے نقل کیا ہے، (اس لئے کہ)  سفیان ثوری فرماتے ہیں :’’جس سے جی چاہے حلال بیع و شراء کرو‘‘۔یہی امام ابو حنیفہؒ کا بھی مذہب ہے اور یہ تب ہے جب اس میں معصیت پر تعاون نہ ہو یا اس مبیع سے معصیت نہ قائم ہوتی ہو، جیسا کہ کوئی ایسی چیز فروخت کرے جس سے حرام چیز بنائی جاتی ہو البتہ جو مبیع حرام کردہ چیز میں استعمال ہوتی ہو جیسا کہ ایام جنگ میں اسلحہ و ہتھیار بیچنا تو یہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک مکروہ ہے۔

صاحبین نے اس میں امام صاحب کی مخالفت کر کے اس کو مطلقًا مکروہ قرار دیا ہے، یہی امام شافعیؒ کا بھی قول ہے، ان حضرات کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اصل تو بیع و شراء میں حلّت ہی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ نے خرید و فروخت کو حلال قرار دیا ہے‘‘ ۔(البقرۃ:۲۷۵)۔  ان حضرات کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صورت میں جو بھی گناہ ہوگا وہ مشتری کے سر ہوگا، اور دلیل میں یہ آیت قرآنی پیش کرتے ہیں: ’’اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ ۔ (الأنعام: ۱۶۴) ۔ لہٰذا یہ بیع کی صحت اور جواز پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

ان دونوں اقوال میں راجح وہی قول لگتا ہے جس کی طرف جمہور کارجحان ہے کہ بیع تب حرام ہے جب اسے یہ پختہ علم ہو یا غالب گمان ہو کہ وہ حرام میں اس کا استعمال کرے گا۔

باقی اصلِ اباحت کے متعلق جواب یہ ہے کہ ایسا عقد جو حرام اور حرام پر تعاون کرنے کا سبب بنتا ہے وہ اصل کو زائل ختم کر دیتا ہے، اس لئے کہ اصل کو عامل بنانا اس چیز کے عدمِ قیام کی حالت میں ہوتا ہے جو اس کے لئے مانع ہو۔

لیکن اس مسئلہ میں قابلِ التفات یہی بات ہے کی حرمت کی شدت میں کمی پیشی ہوتی ہے، پس جو حرام کے زیادہ قریب کرانے کا سبب ہو اس کی حرمت بھی اتنی ہی شدید ہوگی جیسا کہ اسے یہ بات بھی اچھی طرح جاننی چاہئے کہ حرام طریقے سے بیع و شراء یا اجارہ وغیرہ پر تعاون کی حرمت میں کوئی فرق نہیں، بایں صورت کہ خریدار یا اجارہ پر لینے والا یا کوئی اور اس کو معاوضہ کے ساتھ یا مفت ہو تو یہ اباحت کا عقد ہے،  اس لئے کہ بائع کے عقد کا اعتبار ہوتا ہے، جیسا کہ چاہے خریدار مسلمان ہو یا کافر اس میں کوئی فرق نہیں، اب چاہے کافر شریعت کے فروع کے مخاطب ہوں یا نہیں دونوں برابر ہیں، اس لئے کہ اصل حکم تو بائع کے متعلق ہوتا ہے اور احکامِ شریعت بائع پر ہی لاگو ہوتے ہیں، اب اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلادِ مسلمین اور بلادِ کفار میں خرید و فروخت کا معاملہ کرنے میں کوئی فرق نہیں۔باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں