فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / مالش / مساج کا حکم

مالش / مساج کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-02-20 | مناظر : 2785
- Aa +

محترم جناب السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مساج اور مالش کا کیا حکم ہے؟

حــكم الـتـدلـيك

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

مساج دو قسم کی ہوتی ہے:۔

پہلی قسم: ایسی مالش جو علاج کے لئے ہو اور طبیب پٹھوں میں کمزوری کے علاج کے طور پر بتائے یا اس کے علاوہ کوئی اور طبی غرض ہو۔ یہ صورت جائز ہے ، کیونکہ یہ دواء اور علاج کے قبیل میں سے ہے جس کا اصل حکم اباحت والا ہے ۔ لیکن شرمگاہ کی حفاظت پھر بھی واجب ہے نظر سے بھی اور مس کرنے سے بھی یعنی چھونے سے بھی گریز کرنا ضروری ہے الّا یہ کہ ضرورت شرمگاہ کو منکشف کرنے کا تقاضہ کرے لیکن اس صورت میں بھی ضرورت کے مقدار ہی منکشف کی جائے گی اور مس میں بھی اس کی رعایت کی ضروری ہے اور اسی طرح اتنی دیر کے لئے ہی منکشف کرنا جائز ہوگا جتنی دیر میں حاجت پوری ہو جائے۔ یہ سب احتیاط اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں‘‘۔اور اسی آیت میں اللہ نے مؤمن عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں‘‘۔ (النور: ۳۱)۔ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا: ’’اور وہ (یعنی مؤمن) جو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے ہیں ، مگر اپنی بیویوں کے لئے یا اپنی باندیوں کے لئے اس حالت میں کہ ان پر کوئی ملامت بھی نہیں‘‘۔ (المؤمنون : ۶،۵)۔

اور امام احمد نے (۱۹۵۳۰) اور امام ابوداؤد نے (۴۰۱۷) اور امام ترمذی نے (۲۷۶۹) جیّد سند کے ساتھ بھز بن حکیم عن ابیہ عن جدّہ کے طریق سے روایت کی ہے کہ جب نبی سے شرمگاہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ’’اپنی شرمگاہ کا اپنی بیوی اور باندی کے علاوہ سب سے حفاظت کرو‘‘۔ تو کہا گیا جب مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ ہو؟ فرمایا: ’’اگر ایسا ممکن ہو کہ اسے کوئی بھی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرے‘‘۔ امام بخاری ؓ نے اس روایت کا بعض حصہ تعلیقاََ ذکر کیا ہے اور صحیح مسلم میں (۳۳۸) ابو سعید خدریؓ کی روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: ’’ کوئی مرد دوسرے مرد کی شرمگاہ نہ دیکھے اور نہ ہی کوئی عورت دوسری عورت کی شرمگاہ دیکھے، اور کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایک لحاف میں نہ رہے اور نہ ہی کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک لحاف میں رہے‘‘۔ یہ حدیث دوسرے بدن کو چھونے کی حرمت پر دلالت کر رہی ہے۔

دوسری قسم: چستی کے لئے مساج کرانا، بعض لوگ جسم میں چستی اور نشاط کے لئے مالش کرواتے ہیں یا پھر بغیر حاجت کے لئے صرف لذت حاصل کرنے کے لئے ۔ اس قسم کی مالش کا حکم یہ ہے کہ اگر شرمگاہ کا منکشف ہونا یا اس کو مس کرنا نہ ہو اور نہ ہی طبعی ہیجان یا شہوت زدگی ہو تو یہ جائز ہے اور اس پر أجرت لینا بھی جائز ہے۔ لیکن میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہاتھ سے مالش کروانے کی بجائے مساج والی مشین سے مالش کی جائے کیونکہ اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے نہ ہی کشف عورت کا اور نہ ہی مس باشہوت کا ۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

16/  9 /1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں