فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / قرعہ اندازی کے ذریعے نکلے ہوئے تحفے تحائف کا دینا حرام ہے

قرعہ اندازی کے ذریعے نکلے ہوئے تحفے تحائف کا دینا حرام ہے

تاریخ شائع کریں : 2017-02-23 | مناظر : 1440
EN
- Aa +

محترم جناب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔ میں نے اور میری چند سہیلیوں نے آپس میں یہ معاہدہ کیا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اس انداز سے ہدیہ دے کہ دوسری کو پتہ نہ چلے ، پھر ان تحفے تحائف کو جمع کرکے آپس میں قرعہ اندازی کے ذریعہ تقسیم کر لیں جبکہ کسی کو بھی اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کس نے کونسا ہدیہ دیا تھا اور کونسا لے رہی ہے، اور نہ ہی لئے ہوئے ہدیے کا مقدار کا اسے علم ہوتا ہے، اب سؤال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا تصرف کرنا جائز ہے؟

الإهداء لمن تخرِجه القرعة - من صور الهدايا المحرمة

اما بعد۔۔۔

آپس میں اس طرح ہدیہ دینا جوا اور سٹا بازی کی ایک شکل ہے جو کہ اللہ کی طرف سے حرام کردہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’شراب نوشی، جوا بازی، بتوں کے تھان اور جوئے کے تیر یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں لہٰذا ان سے بچو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو‘‘

سورة المائدة: 90۔

اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ اس طرح تحفے تحائف دینے میں جتنے بھی شریک ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک معلوم مال خرچ کرتا ہے اور یہ وہی مال ہوتا ہے جس کے بدلے میں اس نے ہدیہ دیا ہوتا ہے لیکن (قرعہ اندازی کے ذریعہ) وہ اس کے برعکس مجہول مال لیتا ہے، لہٰذا بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس نے جو ہدیہ دیا ہوتا ہے تو اس کی قیمت کے برابرہدیہ لے کرنقصان سے بچ جاتا ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے دیئے ہوئے ہدیہ کے مقابلے میں اس سے زیادہ قیمت والا ہدیہ پاکر نفع میں رہ جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے دیئے ہوئے ہدیہ کے مقابلے میں کم قیمت والا ہدیہ پاکر نقصان میں رہ جاتا ہے۔ جیسا کہ یہ بھی کبھی کبھی ہوتا ہے کہ اس کے حصے میں ایسا تحفہ نکل آتا ہے کہ کم قیمت ہونے کی وجہ سے وہ اسے اچھا نہیں لگتا یا کوئی صاحبِ اختیار اسے دینا نہیں چاہتا اس طرح (قرعہ اندازی) میں ہدیہ کی تعیین بے سوچے سمجھے کی جاتی ہے۔

لہٰذا میرے خیال میں اس طرح کا معاملہ حرام ہے۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں