فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / عورت کا اجنبی مرد کو دیکھنے کی تفصیل

عورت کا اجنبی مرد کو دیکھنے کی تفصیل

تاریخ شائع کریں : 2017-02-23 | مناظر : 1457
- Aa +

محترم جناب ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، کیا اس میں کوئی حرج ہے کہ عورت اجنبی آدمیوں کو دیکھے ؟ وہ یا تو بلا واسطہ ہو (یعنی سامنے) یا پھر ٹیلی ویژن وغیرہ کے ذریعے؟

تفصيل القول في نظر المرأة للرجل الأجنبي

حامدا  و مصلیا۔۔۔

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

:عورت کا مردکی طرف دیکھنا مختلف احوال میں ہو سکتا ہے

 پہلی صورت تو یہ ہے کہ نظر شہوت کے ساتھ ہو اور اس سے فتنے کا بھی اندیشہ ہو تو یہ ناجائز ہے۔ متفق علیہ طور پر یہ حرام ہے جیسا کہ بہت سے اہل علم نے اس کا ذکر کیا ہے جن میں امام جصاصؒ اور امام نوویؒ بھی شامل ہیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ نظر حاجت کی وجہ سے ہو تویہ جائز ہے کیونکہ مطلقا اس کو حرام کہنا ان وسائل کو حرام کرتا ہے جو مباح ہیں۔

اور تیسری صورت ایسی یہ ہے کہ نظر ایسی ہو جس میں نہ ضرورت و حاجت ہو ، نہ شہوت ہو اور نہ ہی فتنے کا اندیشہ ہو تو اس میں اہل علم کا اختلاف ہے جو کہ بالجملہ دو اقوال پر مشتمل ہے:

 پہلا قول یہ صورت جائز ہے اوریہ مذہب امام ابو حنیفہ ؒ ، امام مالکؒ اور امام احمدؒ کا ہے اورامام شافعی کا بھی ایک قول یہ ہے۔ اور ان حضرات نے متعدد روایات سے استدلال کیا ہے، ایک تو امام بخاریؒ (۴۵۵) اور امام مسلم ؒ(۸۹۳)نے نقل کی ہے: حضرت وعائشہ ؓ فرماتی ہے: ’’میں نے رسول اللہکو دیکھا کہ انہوں نے مجھے اپنی چادر میں چھپایاہوا ہے اور میں احباش کو دیکھ رہی تھی کھیلتے ہوئے، اور اس وقت میری عمر کم تھی‘‘۔ اور امام مسلم ؒ نے روایت کیا ہے(۱۴۸۰) ابو سلمہ عن فاطمہ بنت قیسؓ کے طریق سے کہ رسول اللہنے فرمایا: ’’ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزاروچونکہ وہ اندھا شخص ہے اور تم اپنے کپڑے ان کے ہاں اتارتی ہو‘‘۔ اور ان ائمہ نے اس آیت کو جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور مؤمن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی کریں‘‘ (النور ۳۱)کو محمول کیا ہے کہ ایسی ممنوع جگہیں وغیرہ جن کا دیکھنا حرام ہے ان سے نظریں جھکائیں۔

دوسرا قول: یہ صورت ناجائز ہے اور یہ مذہب امام شافعیؒ کا ہے اور امام احمدؒ کی بھی ایک روایت ہے اور انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے : ’’اور مؤمن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی کریں‘‘ (النور ۳۱) اور ساتھ ساتھ اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جو کہ امام ابوداود ؒ(۴۱۱۲) اورامام ترمذیؒ (۲۷۷۸) نے امِ سلمہ کے طریق سے نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ وہ اور میمونہ رسول اللہکے پاس تھیں ، فرماتی ہیں کہ ہم آپکے پاس تھیں کہ ابن امِ مکتوم آئے اور داخل ہوئے اور یہ تب کی بات ہے جب حجاب کا حکم نازل ہو چکا تھا تو رسول اللہ نے فرمایا: ’’اس سے پردہ کرو‘‘ تو میں نے کہا: یا رسول اللہ کیا یہ اندھے نہیں ؟ نہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں نہ ہی پہچانتے ہیں، تو رسول اللہ نے فرمایا: ’’کیا تم دونوں بھی اندھی ہو؟ کیا تم دیکھتی نہیں؟‘‘ امام ترمذیؒفرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح حسن ہے۔

اور ان دونوں اقوال میں زیادہ اقرب الی الصواب جواز کا قول ہے الا یہ کہ شر اور فتنہ کا خدشہ ہو کیونکہ ایسی صورت سب کے ہاں بالاتفاق حرام ہے۔ اور اسی ضمن میں یہ صورت بھی آجاتی ہے کہ عورت آدمی کو غور و تدبر کے ساتھ دیکھے اور اس کے حسن وجمال میں تأمل کرے کیونکہ اس نظر میں بھی غالب شہوت کی ہے لہٰذا جائز نہیں۔ اور جو حرمت کا کہنے والی فریق نے استدلال کیا ہے اس حدیث کا دارومدار امِ سلمہؓ کی حدیث پر ہے اور اس حدیث پر اہل علم نے (نبھان مولی امِ سلمہ ؓ) کی وجہ سے کلام کیا ہے اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی روایات سے حجت نہیں پکڑی جاتی اور جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے جو کہ ابودواودؒ نے کہا کہ یہ خاص ازواجِ نبیکے ساتھ ہے ، کیا فاطمہ بنت قیس ؓ کا ابن امِ مکتوم کے ہاں عدت گزارنا سامنے نہیں جبکہ رسول اللہنے فاطمہ بنت قیس ؓ سے کہا:  ’’ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزاروچونکہ وہ اندھا شخص ہے اور تم اپنے کپڑے ان کے ہاں اتارتی ہو‘‘۔ اور جہاں تک آیت کا تعلق سے تو اس میں نظریں ان عناصر سے نیچے کرنے حکم ہے جن سے منع کیا گیا ہے اور آدمی کا چہرہ خاص طور پر جب شہوت بھی نہ ہوتو ممنوعات میں داخل نہیں اور اسی جواز پر بخاریؒ کی حدیث(۹۸۸) اور مسلمؒ کی روایت (۸۹۲)جو کہ زہری عن عروۃ عن عائشہؓ کے طریق سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:’’میں نے رسول اللہکو دیکھا کہ انہوں نے مجھے اپنی چادر میں چھپایاہوا ہے اور میں احباش کو دیکھ رہی تھی کھیلتے ہوئے‘‘۔ واللہ تعالیٰ اعلم

آپ کا بھائی

أ.د خالد المصلح

12/ 4/ 1426هـ 

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں