×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / تعویذ/دم ہلکی آواز میں کی جائے یا اونچی آواز میں؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-02-23 10:06 AM | مناظر:1878
- Aa +

محترم جناب ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ میں ایک ڈاکٹر ہوں ، علاج کے دوران بیمار کے عضو کو دیکھتے ہوئے میں چپکے سے دھیمی آواز میں رقیہ یعنی دم پڑھتا ہوں، کہ مریض مجھے نہ سن سکے ۔ یا تو آیت الکرسی پڑھتا ہوں اور مریض پر پھونکتا ہوں یا دعا کرتا ہوں ’’اللھم رب الناس اذھب البأس اشف انت الشافی‘‘ ترجمہ: اے اللہ ! تمام لوگوں کے رب تکلیف دور کردے ااور شفاء عطا فرما تو ہی شفا دینے والا ہے۔تو کیا یہ صورت ٹھیک ہے، یا مجھے اونچی آواز سے پڑھنا چاہئے؟

أتكون الرقية سرًّا أم جهرًا؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

رقیہ شرعیہ (جائز دم) چاہے قرآن سے ہو یا حدیث سے یہ شفاء حاصل کرنے کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے اور شرعی رقیہ میں یہ لازم نہیں کہ جس پر دم کیا جارہا ہے اس کو قرآنی آیت یا دعا سنائی جائے۔ اسی لئے ڈاکٹر کا مریض کو دھیمی آواز میں دم کرنا کوئی حرج نہیں۔ ہاں رقیہ میں اونچی آواز سے دم کرنے کا حصولِ مقصد میں بڑا دخل ہے، اگرچے بعض اوقات دھیمی آواز میں دم کرنا کبھی کبھار حضور قلب اور اخلاص دعاء کے لئے زیادہ کارآمد ہے۔ اور ہر صورت میں خیر ہی ہے۔

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

19 /10/ 1428هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں