×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / چیونٹی کی ایذا ء سے بچنے کے لئے اس کو مارنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-02-24 04:45 PM | مناظر:2906
- Aa +

ہمیں یہ معلوم ہے کہ نبی ﷺ سے صحیح حدیث میں مروی ہے جس میں انہوں نے چیونٹی مارنے سے منع فرمایا ہے، تو کیا اگر ایک شخص کے گھر میں بہت سے چیونٹیاں ہو خاص طور پر کچن میں اور وہ چیونٹی مار دوا ڈال کر انہیں مار ڈالے تو کیا وہ گناہگار ہوگا؟

قتل النمل لدفع أذاه

جواب

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

ابوداؤد کی روایت (۵۲۶۷) جو کہ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے: کہ نبینے چار طرح کے جانداروں سے منع فرمایا :۔ چیونٹی، شھد کی مکھی، ھدھد،صرد (پرندہ)۔یہ روایت اس بات پر دلالت کررہی رہے کہ ان جانوروں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے چونکہ ان میں بعض منافع ہیں اور قتل کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ ہاں اگر چیونٹی ایذاء پہنچائے تو اگر ایذاء قتل کرنے سے ختم ہوتی ہو تو پھر اس کو مارنا جائز ہے۔ بخاری کی ایک روایت ہے (۳۳۱۹) اور مسلم نے بھی (۲۲۴۱) ابو زناد عن طریق ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ رسوال اللہ نے ارشاد فرمایا: ’’انبیاء میں سے ایک نبی درخت کے نیچے رکے تو ایک چیونٹی نے انہیں کاٹ لیا ، تو انہوں نے حکم دیا تو اس کا سامان نکال دیا گیا پھر حکم دیا تو اس کا گھر جلا دیا گیا تو اللہ نے ان پر وحی نازل کی: کیوں نہ ایک چیونٹی کو مار ڈالتے؟‘‘۔

تو یہ اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ جو چیونٹی نقصان دہ اور ایذاء رسا ہو اس کو مارنا جائز ہے اور جو اس کے علاوہ ہو تو ان کے مارنے سے ممانعت ہے۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

3/ 8 /1427هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں