فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / حالت کی درستگی کی نیت یا شادی وغیرہ کی نیت سے زمزم پینا

حالت کی درستگی کی نیت یا شادی وغیرہ کی نیت سے زمزم پینا

تاریخ شائع کریں : 2017-02-24 | مناظر : 1397
- Aa +

محترم جناب السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ایک حدیث میں زمزم کی فضیلت بیان کی گئی ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’زمزم کی پانی کی منفعت جس نیت سے پیا جائے حاصل ہوتی ہے، اگر تم شفاء کی طلب میں اسے پیو تو اللہ تمہیں شفاء دے گا اور اگر تم اسے شکم سیری کی نیت سے پیو تو اللہ تمہاری بھوک مٹائے گا ، اور اگر تم اسے پیاس بجھانے کے لئے پیو تو اللہ پیاس بجھا دے گا ، اور اگر تم پناہ چاہتے ہو اس سے تو اللہ تمہیں پناہ دے گا‘‘۔ اور ابن عباس ؓ زمزم پیتے وقت یہ دعاء مانگا کرتے تھے: ((اللهم إني أسألك علماً نافعاً، ورزقاً واسعاً، وشفاءً من كل داء))۔ رواہ الحاکم۔ ترجمہ: اے اللہ میں آپ سے نفع دینے والے علم کا ، رزق میں فراوانی کا اور ہر بیماری سے شفاء کا سوال کرتا ہوں۔ عرض یہ ہے کہ اس حدیث کی صحت کیا ہے اور کیا حال کی درستگی اور شادی وغیرہ کی نیت سے زمزم پینا ٹھیک ہے؟

شرب زمزم بنية صلاح الحال والزواج ونحو ذلك

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

امام احمد، ابن ماجہ، بیھقی اور دیگر نے حضرت جابر ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے اس کا نفع دیتا ہے‘‘۔ امام بیھقی ؒکہتے ہیں : اس روایت میں عبداللہ بن مؤمل نے تفرد اختیار کیا ہے ، اور بعض اہل علم نے اس کی تصحیح بھی کی ہے کیونکہ اس میں عبداللہ کا متابعت موجود ہے اور ساتھ ابن حجر ؒ اور ابن القیم ؒ نے بھی تصحیح کی ہے۔

علامہ شوکانی ؒ (نیل الاوتار) میں فرماتے ہیں : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ زمزم کا پانی جس مقصد کے لئے بھی پیا جائے اس کا فائدہ دیتا ہے، چاہے کوئی دنیاوی امر ہو یا اخروی امر ہو کیونکہ آپ کا فرمان ’لما شرب لہ‘ میں ’ما‘ عموم کے لئے ہے۔اسی لئے علماء کی ایک جماعت نے یہی اختیار کیا ہے جن میں مجاھد ؒ بھی ہے جو کہ فرماتے ہیں : اگر تم شفاء کی نیت سے پیو تو اللہ شفاء دے گا اور اگر تم پناہ لینے کی نیت سے پیو تو اللہ پناہ دے گا اور اگر تم پیاس بجھانے کی نیت سے پیو تو اللہ تمہاری پیاس بجھائے گا۔

امام نووی ؒ ’اذکار‘ میں لکھتے ہیں : علماء اور اہل خیر نے اسی پر عمل کیا ہے ، لہٰذا انہوں اپنے بڑے مقاصد اسی کے ذریعے حاصل کئے۔ تو جو بھی زمزم پیئے اس کے لئے مستحب ہے کہ اگر وہ مغفرت یا کسی مرض سے شفاء کے لئے پیئے تو یہ کہے: کہ اے اللہ مجھے رسول اللہ کی یہ حدیث پہنچی کہ آپنے فرمایا: زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے اس کا نفع دیتا ہے۔ اے اللہ اب میں اس کو اس نیت سے پی رہا ہوں کہ تو میری مغفرت فرما اور میرے ساتھ یہ معاملہ کر، لہٰذا میری مغفرت کر یا میری مراد پوری کر دے۔ یا یوں کہے : اے اللہ میں اسے شفاء کا طلبگار بن کر پی رہا ہوں لہٰذا مجھے شفایاب کر۔ واللہ اعلم

اور اس طرح عمل کرنے والے عمر بن خطاب ؓ بھی تھے، ان سے مروی ہے کہ انہوں نے زمزم پیا اور یہ دعاء پڑھی: ((اللهم إني أشربه لظمأ يوم القيامة))۔ ترجمہ: اے اللہ میں اسے قیامت کے دن کی پیاس بجھانے کی نیت سے پیتا ہوں۔ اور اسی طرح کے الفاظ عبداللہ بن مبارک ؒ کے بارے میں بھی آئے ہیں۔ ’الترغیب و الترھیب‘ میں منذری نے نقل کیا ہے اور امام احمد نے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اور ابن عباس ؓ نے زمزم پیتے وقت یہ دعاء پڑھی : ((اللهم أسألك علما نافعا، ورزقا واسعا، وشفاء من كل داء))۔ ترجمہ: اے اللہ میں آپ سے نفع دینے والے علم کا ، رزق میں فراوانی کا اور ہر بیماری سے شفاء کا سوال کرتا ہوں۔ امام حاکم نے مستدرک میں اسے ذکر کیا ہے۔

اور حافظ ابن حجر ؒ نے ایک رسالہ میں مذکورہ بالا حدیث کے تحت لکھا ہے: امام شافعی ؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے شیطان کو کنکریاں مارنے کی نیت کو سامنے رکھ کر زمزم پیا تو وہ ہر دس کنکریوں میں سے نو ٹھیک نشانے پر مارتے۔ اور امام حاکم ابو عبداللہ نے حسن تصنیف کی نیت سے پیا تو وہ اپنے زمانے کے بہترین مصنف بن گئے۔ اور جتنے ائمہ نے مختلف امور اور مقاصد کی نیت سے پیا اور وہ ان کو حاصل بھی ہو گئے ان کا شمار کرنا دشوار ہے۔ حافظ زین الدین عراقی ؒ نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کسی غرض سے زمزم پیا تو وہ ان کو حاصل ہو گیا۔

اور میں نے خود علم حدیث کی ابتداء میں پیتے وقت یہ دعاء کی کہ اے اللہ مجھے حدیث یاد کرنے میں امام ذھبیؒ جیسا حافظہ دے پھر اس کے بعدمیں نے تقریباََ بیس سال بعد جب حج کیا تو اپنے آپ کو بلند مرتبہ پر محسوس کیا تو میں نے اس سے بھی اعلیٰ رتبہ مانگا اور اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ مجھے حافظے میں اس سے بھی اعلیٰ رتبہ حاصل ہو جائے۔

اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اپنے عموم پر محمول نہیں ہے بلکہ یہ ان مقاصد کے لئے ہے جن کا تعلق بدن کے ساتھ ہیں مثلاََ بھوک پیاس یا بیماری وغیرہ سے چھٹکارا چاہنااور جہاں تک امورِ معنویہ کا تعلق ہے تو ان کو اس حدیث کے تحت لانے میں تردد ہے۔

اور جو ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حدیث کے عموم میں تمام مطالب و مقاصد داخل ہیں چاہے ان کا تعلق بدن سے ہو یا نہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ زمزم پینے والے کے لئے باعثِ رحمت وبرکت ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت ہے، حضرت عبداللہ بن صامت ؓ ابو ذر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ زمزم کے کنویں کے نزدیک تیس سال رہے اور ان کا زمزم کے علاوہ اور کوئی کھانا نہیں تھا حتی کہ وہ موٹے ہو گئے تو جب انہوں نے نبی کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ’’یہ برکت والاہے ، کھانے کی جگہ کھانا ہے‘‘۔

اور جہاں تک مقصود حاصل کرنے کا تعلق ہے تو پیچھے بات گزر چکی اور یہی مفہوم حدیث سے سمجھ میں آتا ہے کہ مقصود نیت اور دعاء سے حاصل ہوگا اور یہی علماء کی جماعت کا کہنا ہے۔

حدیث کا ظاہر تو اس ابت پر دلالت کر رہا ہے کہ مطالب صرف پینے کے وقت نیت سے ہی حاصل ہو جاتے ہیں اور اہل علم کی ایک جماعت کا بھی یہی کہنا ہے اور اس پر ابوذر ؓ کی حدیث دلالت کر رہی ہے۔ کیونکہ انہیں تو دعاء پڑھے بغیر ہی شکم سیری اوربدن میں موٹاپا حاصل ہو گیا تھا لہٰذا راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ حصول کے مطالب کے لئے نیت ہی کافی ہے اور دعاء تأکید میں زیادتی کے لئے ہے نہ کہ مقصود حاصل کرنے کے لئے لازم ہے۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

11 / 3/ 1429هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں