فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / کچھ سوالات اس حوالےسےکہ رمضان کےثبوت میں چاندکی رؤیت کا اعتبارہےیاحساب کا ،اوررمضان کےختم ہونےمیں ریاست کی خلاف ورزی جائزہےیانہیں ؟

کچھ سوالات اس حوالےسےکہ رمضان کےثبوت میں چاندکی رؤیت کا اعتبارہےیاحساب کا ،اوررمضان کےختم ہونےمیں ریاست کی خلاف ورزی جائزہےیانہیں ؟

تاریخ شائع کریں : 2017-02-24 | مناظر : 1337
- Aa +

سوال ۱:کیا کسی ملک والوں کےلئے جائز ہے کہ فلکیاتی حساب سے رمضان اورعیدالفطر معتبرسمجھے اور رؤیت کا اعتبارنہ کرے ؟ سوال ۲:کیا کسی ملک میں اگر اس مذکورہ فلکیاتی حساب سے عید کا دن ہواور کسی کے اپنے روزے ابھی تک پورے نہیں ہوئے تو کیا ان کی مخالفت کرکے اپنے روزے پورے کرے یا ان کےسا تھ شریک ہو کرافطارکرکے نمازعیدمیں شریک ہو؟

مسائل حول ثبوت رمضان بالحساب ومخالفة الدولة في خروجه

بسم اللہ الرحمان الرحیم

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

 جواب ۱:مذکورہ مسئلہ میں علما کا اختلاف ہے۔ بعض حضرات توہر حال میں رؤیت کااعتبار کرتے ہیں اوربعض حضرات بالکل رؤیت کوروانہیں سمجھتے اوربعض حضرات کچھ تفصیل سے کام لیتے ہیں،اوریہی تیسراموقف راجح ہے اوروہ یہ ہے  کہ رؤیت کی نفی میں توحساب کااعتبار ہوگا اوررؤیت کے ثبوت میں نہیں ۔ لہذاجب فلکیاتی  حساب سے ثبوت یقینی ہو تو اس وقت رؤیت کااعتبار نہیں کریں گے ۔کہ حساب کچھ اوربتارہا ہو اوراس حال میں کوئی بندہ آکر چاند دیکھنےکی گواہی دے تو اس کی گواہی قابل قبول نہیں ہوگی ۔البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اس گواہی کارد کرنا اس بنیاد پر نہیں کہ ھم فلکیا تی حساب کوحتمی سمجھتےہیں بلکہ یہ گواہی اس بنا پر ردہوئی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ چاند موجود ہولیکن دیکھنے کے قابل نہ ہو اس لئے کہ چاند کادیکھنا اورچیز ہےاورچاند کی ولادت الگ چیز ہے دیکھنے کے لئے صرف ولادت ہونا کافی نہیں بلکہ اس کاقابل رؤیت ہونا بھی ضروری ہے۔

باقی رہا آپ کاروزہ رکھنا  نہ رکھنا تو اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ جہاں آپ کی سکونت ہےوہاں کے لوگ اگر روزہ رکھے ہوئے  ہوتو آپ ان کے ساتھ روزے میں شریک ہو اور اگر افطار کئے ہوئے ہوتو آپ بھی ان کےساتھ افطار میں شریک ہوکیونکہ ابوداؤد اورترمذی میں روایت ہے کہ حضرت ابوہٰرہرہ ؓ نبی علیہ السلام کاارشاد نقل کرتے ہیں کہ روزہ اس دن ہوگا جس دن تم روزہ رکھو اورافطار اس دن کامعتبر ہوگا جس دن تم افطار کرواوراضحی اس دن کرو جس دن لوگ عید الاضحٰی منائے ۔اس طرح حضرت عائشہ ؓ سے ایک حدیث منقول ہے کہ عید الفطر اس دن ہے جس دن تم افطار کرواوبقرعید اس دن ہوگی جس دن تم بقرعید مناؤ  اورامام ترمذی نے اپنےجامع میں لکھا ہے کہ روزے اورافطار کااعتبار مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہوگا۔

جواب ۲:مذکورہ جواب سے بھی معلوم ہوا کہ روزہ اور افطار میں اعتبار علاقوں والوں کے حساب سے ہوگا اوران کی مخالفت جائز نہیں ہوگی۔ امام احمد ؒسےایک روایت میں نقل ہے کہ امام کےساتھ روزہ رکھا جائے اورمسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہی موافقت کرے خواہ مطلع صاف یا ابر آلود ہوکیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں