فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / روزہ کی حقیقت

روزہ کی حقیقت

تاریخ شائع کریں : 2017-02-27 | مناظر : 1106
- Aa +

روزے کی کیا حیثیت ہے؟

ما هي حقيقة الصوم؟

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

روزہ درحقیقت صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک تمام مفطرات سے رکنے کانام ہے اورمفطرات تین چیزیں ہیں ۔کھانا،پینا اورجماع۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :’’اور اب جماع کرنے کی اجازت ہے اور جو کچھ اللہ نے آپ کیلئے لکھ دیا اس کوتلاش کرواور اس وقت تک کھا ؤ پیو جب تک کالا دھا گہ سفید دھاگے سے الگ نہ ہوجائے یعنی فجر کے وقت۔اس کے بعد (کھانا پینا بند کرو ) اور روزے کو پورا کرو رات(مغرب ) تک ‘‘۔(البقرۃ۔آیت۱۸۷) ۔تو ان مفطرات سے رکنا یہ دراصل روزہ ہے ۔اور روزے میں تمام مسلمان برابر شریک ہے کہ اللہ کی تمام حرام کردہ اشیاء سے بچا جائے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ صرف ان مفطرات سے رکنا ہی روزے سے مقصود ہے یا اس سے ہٹ کر کوئی اوربھی ہے تو دراصل روزہ سے مقصود نفس کاتزکیہ وتربیت ہے کیونکہ قرآن روزے کامقصد تقویٰ بتاتا ہے جیسے اللہ کاارشاد ہے:’’ اے ایمان والو تم پر وزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح کہ پچھلی امتوں پر روزہ فرض کیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘۔(البقرۃ ،۱۸۳)۔

تقویٰ درحقیقت بندے اور اللہ کے عذاب کے درمیان آڑ ہے ۔اور یہی چیز بندے کو تقویٰ کے راستے پر لے کرجانے والی ہے۔کیونکہ جب بندہ اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں سے صرف اس لئے رکتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ کاڈر ہے اوراس کے احکام اس لئے بجا لارہا ہے کہ اس کواللہ کی بعد میں دی جانے والوں نعمتو ں کا مکمل یقین ہے ۔اور یہی دراصل تقویٰ ہے ۔

تقویٰ کامفہوم انتہائی وسیع ہے اس کی ابتدا دل سے ہوتی ہے کہ دل منور ومطہر ہوجاتا ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ:’’ خبردارانسا نی جسم کے اندر گوشت کاایک ْٹکڑا ہے اگر وہ درست ہوگیا تو سمجھو کہ سارا بدن درست ہو گیا اوراگر اس میں بگاڑ پیدا ہواتو سمجھو کہ پورے بدن میں بگاڑ پیدا ہوگیا خبرادار وہ دل ہے ‘‘۔اورایک حدیث میں آتاہے جو حضرت ابوہریرۃؓ سے منقول ہے کہ دل کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ( تقویٰ یہاں ہے ، تقویٰ یہاں ہے ، تقویٰ یہاں ہے)۔لہذ اروزہ سے مقصود صرف کھانے پینے سے رکنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دل کی طہارت ،اخلاق کی پاکیزگی ،اعمال کی اصلاح ،معاملات میں استقامت ،ظاہر کی پاکیزگی،باطن کاتزکیہ اورہدایت ہے۔جب یہ تمام مقاصد پورے نہ ہو تو اس وقت تک روزے کی اصل روح نہیں آسکتی۔اس کی تائید حضرت ابوہریرۃ ؓ کی ایک حدیث سے ہوتی ہے جوکہ صحیح بخاری میں منقول ہے کہ (جب تک بندہ قول زور او اس پر عمل ترک نہ کرے تواللہ رب العزت کوکوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑے) ۔قول زور سے مراد صرـف جھوٹی گواہی نہیں بلکہ ہر وہ بات جو غلط اور فاسد ہو ۔اور اس پر عمل نہ کرنے سے مراد ہر ناجائز عمل خواہ چھوٹا ہو،بڑا ہو،اس کاتعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے ہو ۔تو ان تمام چیزوں سے شریعت منع کرتی ہے۔تو روزے میں خاص طور سے بند ہ ناجائز بات اورناجائز عمل سے بچے ۔کیونکہ اس سے روزے کا مقصود کاحاصل کراناناممکن ہوجاتا ہے۔

اورروزے کامعاملہ عجیب ہے کہ اس میں دل کاتزکیہ اورتربیت بھی ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ ر وزہ ڈھال ہے۔یعنی یہ اللہ کے عذاب اور جہنم کے آگ سے بچانے والی چیز ہے ۔اور یہ بچاؤتب ہی ممکن ہے کہ جب اعمال صالحہ کی ؤ بندہ عادت بنائے اور باقی روزے کی تکلیف برد اشت کرنا توگرمی تو ہمارے نجات کاباعث ہوگی انشااللہ ۔جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ جوبندہ اللہ کی رضا کے لئے ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ اس کے اور جہنم کے درمیان ستر سا ل کی مسافت کے بقدر دوری لائے گے ۔اللہ سے دعاہے کہ اللہ جہنم سے ہماری اور آپ کی حفاظت فرمائے اورروزے کی برکت سے ہماری کمی کوتاہیوں کومعاف فرمائے اورہمیں تمام رذائل سے پاک وصاف فرما کرہمیں بلند درجات عطا فرمائے۔

اسی لئے ہمیں چاہئے کہ اپنے اخلاق، معاملات اوراقوال میں تبدیلی لے آئے تاکہ روزے کی برکات و ثمرات حاصل ہو جائے۔یہی وجہ ہے کہ بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ روزہ ا رادہ مستعلیہ کا نام ہے۔اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اس ارادے کا نام ہے جوتمام رزائل اور برائیوں سے پاک ہواورمستعلیہ یہ کہ اس میں بلندی اور فضیلت ہو۔یہی وجہ ہے کہ صحیح بخاری میں نبیکاارشاد منقول ہے کہ( جب تم میں سے کسی کاروزہ ہو تو نہ وہ ناراض ہو،نہ وہ برائی کاکام کرے اگر کوئی اس کوگالی بھی دے )اور ایک روایت میں آتا ہے کہ( وہ اس کوکہہ دے کہ میں روزے سے ہو)۔تو یہ گالی دینے والے اورلڑنے والے کابدلہ نہیں ہے بلکہ ہمارے دین میں گنجائش اس سے بھی زیادہ ہے ،لیکن دراصل یہ بندہ اس بلندی کی طرف جا رہا ہے جو اس کو اس کے روزے کی برکت سے عطا ہوئی ۔لہذا اس برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دے رہا۔’’اوربرائی کابدلہ برائی سے دو ‘‘(سورۃ شوریٰ،۴۰)اوربرائی کے بدلے میں معاف اور درگزر کرنے کی طرف جارہاہے۔ ’’اور جاہلوں سے منہ موڑ لو‘‘(الاعراف،۱۹۹)۔وہ اس طرح کہ ان کوکہہ دو کہ میں روزہ سے ہو ۔یہ اس بات کاثبوت دے رہاہے کہ برائی کابدلہ برائی سے نہ دیناصرف ایک پاکی اور باطنی چیز کی وجہ سے ہے اور وہ ہے ہر چیز سے رکنا اور اس کی نیت کرنا۔جس کا اثر اس کے عمل ،اخلا ق اوربقیہ تمام کاموں پر ہے اور اس طرح ہمیں روزے کامقصود حاصل ہوگا ۔

اورمیں تووہی بات کہوں گا جوآپ نے فرمائی کہ بہت سے روزہ دا ر ایسے ہیں کہ جن کو سوائے بھوک وپیاس کے او ر کچھ بھی نہیں ملتا۔اور اس کی وجہ بھی ایک روایت میں بیان کردی اور فرمایا:’’کہ اگرکوئی جھوٹی گواہی اور اس پر عمل نہ چھوڑے تو اللہ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑدے ‘‘۔

  اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے روزوں کو اپنی مرضی اور رضا کے مطابق بنادے ۔اور اس کے ذریعے ہمارے اعمال اور اخلاق کا تزکیہ فرمادے اور ہماری ساری زندگی پاک وصاف فرمادے اور ہمارے اعمال کو درست فرمادے وہی سب پر قادر ہے اور ہمارے نبی پر اللہ درود نازل فرمادے

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں