فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / کیا مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

کیا مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

تاریخ شائع کریں : 2017-02-27 | مناظر : 5796
- Aa +

بعض علماء کاموقف ہے کہ مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتاہے اور دلیل میں یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ(کہ میری رضا کی خاطر اس نے شہوت چھوڑ دی ) لیکن جس طرح شیخ البانی نے کہا ہے کہ اللہ نے تمام شہوات حرام نہیں کروائی ۔کیونکہ اس طرح کسی خوشبو کو سونگھنے کی خواہش ہوتی ہے اور وہ اس کو سونگھتا تو اس کا روزہ بھی فا سد ہونا چاہیے تھا یا جو بیوی کو بھوسہ دیتا اور اس سے ملتا اور منی کے خروج کے بغیر ہی اس کا روزہ فاسد ہوناچاہیے تھاتو یہ سا ری شہوات ہیں لیکن ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا تو اللہ نے روزہ دار پر بعض خاص شہوات منع فرمائی ہے اور مشت زنی ان محدود شہوات میں داخل نہیں ۔ اور بالفرض اس کو حرام مان بھی لیا جائے جیسا کہ اکثر علماء کا موقف ہے توپھر بھی ہرحرام کام، روزے کوفاسد کرنے والا نہیں ہوتا ۔ برائے مہربانی مجھے ذرا یہ بتایئے کہ یہ علما ء اس سے روزہ ٹوٹ جانے پر کس طرح دلیل پکڑتے ہیں۔اللہ آپ کابھلا کرے یہ لوگ اس آیت سے دلیل پکڑتے ہیں:’’کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے‘‘۔(المؤمنون ۶،۵)۔ تو اس کودیکھ کروہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہر چیز سے شہوت پوری کرنے کوحرام قراردیا ہے، سوائے اپنے بیویوں اورباندیوں کے۔ تو ان دونوں کے علاوہ اس کیلئے ہرچیز سے شہوت لینا حرام ہے اگر چہ وہ اس کااپنا بدن کیوں نہ ہو ۔لیکن میرے سامنے ایک عجیب چیزظاہر ہوئی کہ شیطان نے مجھے وسوسہ ڈا لا کہ ان کی یہ دلیل غلط ہے،لیکن بہرحال میں اس کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ وہ علما ء ہیں اور میں ان کے آگے ایک ان پڑھ جاہل ہو۔ لہذاشرمگاہ کی حفاظت کے مسئلہ میں بیوی اورباندی کے علاوہ کے شرمگاہ کودیکھنا یا اس کو چھونا داخل ہے تو اس سے کسی نے یہ سمجھا کہ جیسے شرمگاہ کودیکھنا حرام ہے اس طرح اپنی شرمگاہ کودیکھنا بھی حرام ہوگا لیکن اس کاجواب یہ ہے کہ اپنے شرمگاہ کودیکھنا جائز ہے اور کوئی قطعی نص نہیں کہ جس کی وجہ سے اس کوحرام قراردیاجائے ۔اور اس کودیکھ کر یہ بھی کہا جاسکتاہے کہ اس کی حرمت پر کوئی نص قطعی نہیں سوائے اس نص آیت کے ،اور بعض صحابہ کرام نے اس کو جائز بھی کہا ہے۔ اورجومیری سمجھ میں آیا کہ دو شخصوں کے درمیان اگرجنسی تعلق ہو تو یہ حرام ہے سوائے بیوی اور باندی کے۔باقی بندے کا جو اپنے سے معاملہ ہے تو اس سے متعلق اس میں کسی چیز کاذکرنہیں ۔ لیکن یہ سارے صرف میرے خیالات ہیں ہوسکتا ہے کہ شیطان کی طرف سے ہو اور اس لئے لکھ رہا ہو کہ میرے لئے حق کو واضح فرمائے اور یہ میری سیدھے راستے کی طرف رہنمائی فرمائے

هل الاستمناء من المفطرات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ان پر درودروسلام بھیجے اور ان پر برکت نازل فرمائے۔

امابعد۔۔

یہ جوآپ نے حضرت ابوہریرۃؓ کی حدیث پیش کی ہے یہ ان لوگو ں کی ایک مضبوط دلیل شمار ہوتی ہے جومشت زنی کوروزہ کے توڑنے والا شمارکرتے ہیں ا وریہی اکثر فقہا اور محدثین کاقول ہے۔

 بہرحال یہ جو اعتراض ذکر کیا جاتا ہے کہ شہوت کا مفہوم تو انتہائی وسیع ہے تو اس کے اندر کچھ تخصیص ہونی چاہیئے اورہمارے پاس سوائے جماع کے حرمت کے اور کوئی دلیل نہیں ہے، اور جو اس کے علاوہ چیزوں کو حرام قراردیتا ہوتو اس کوچاہیے کہ دلیل دے۔

 تو اس کاجواب یہ ہے کہ شہوت سے مراد جماع اور اس سے متعلق تمام چیزوں کی شہوت ہے کیونکہ ان تمام سے روزہ دار کو منع کیا گیا ہے ۔لہذا اس میں سونگھنے کی شہوت داخل ہی نہیں ۔کیو نکہ اس سے توروزہ دار کومنع ہی نہیں کیا گیا ۔اورمشت زنی کا اس شہوت میں شمار اس لئے ہوتاہے کیونکہ جماع میں مقصود اپنی شہوانی حاجت کوپوراکرناہے اور شریعت نے صرف آلہ تناسل شرمگاہ میں داخل کرنے سے ہی روزہ افطار کاحکم لگایا ہے خواہ انزال ہی نہ ہواہولیکن شہوت تو پھر بھی پوری ہوجاتی ہے ۔لہذ اجس کی بھی شہوت پوری ہو خواہ مباشرت سے ہویا مشت زنی سے ہوتو ا س کا روزہ فاسدہوجائے گا۔

جن لوگوں نے نبی کریمکے اس فرمان سے جو انہوں نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا،جب انہوں نے روزہ دار کے لئے بوسہ لینے سے متعلق پوچھنے پر ارشاد فرمایا: ’’کہ اگر تو کلی کرے روزہ کی حالت میں تو تیرا کیا خیال ہے ؟‘‘ تو عمر ؓ نے عرض کیا اس سے کوئی اثر نہیں پڑتاتو نبی نے فرمایا:ہاں۔تو یہ کونسی سمجھداری کی بات ہے کہ کوئی بوسہ لینے اور مشت زنی کے ذریعے منی کے انزال ہونے کوبرابر کہے اور پھریہ کہے کہ یہ دونوں روزے کوفاسد نہیں کرتے ۔حالانکہ مشت زنی کرنے والا تو جماع بغیر انزال کے کرنے والے سے زیادہ شہوت رانی پوری کرتا ہے ۔مزید یہ کہ اگر صرف اور صرف جماع کے ذریعے روزہ فاسد ہو کسی اور چیز سے نہ ہو تو اس کامطلب یہ ہے کہ کہ لواطت کے ذریعے بھی روزہ فاسد نہ ہو کیونکہ اس سے متعلق بھی تو کوئی نص نہیں آئی ۔اور یہ قول کرنا تو اللہ اوررسول کے کلام سے انتہائی بعید ہے ۔واللہ اعلم

اوراحناف وشوافع وحنابلہ کے بعض علماء کامذہب یہ ہے کہ مشت زنی حرام ہے اوراکثر علماء کے نزدیک مکروہ ہے حرام نہیں اور کئی حضرات اس کو مشقت کے خوف سے جائز نہیں سمجھتے ،اور بعض اورتابعین کامذہب یہ ہے کہ بدکاری وغیرہ کا خطرہ ہو تو اس سے بچنے کی خاطر یا اس کے بغیر مرض کا خطرہ ہو اور یا شہوت غالب ہوگئی اور پورا کرنے کاکوئی راستہ نہیں تو ان صورتوں میں انہوں نے گنجائش دی ہے۔اوراضواء البیان کے مصنف نے اللہ کے اس فرمان : ’’ جوکوئی ان کے علاوہ راستہ تلاش کرتا ہے تو وہ حد سے زیادہ نکلنے والاہے ‘‘ (المؤمنون ،۷)۔کی تفسیر میں ان لوگوں پر اعتراض کیا ہے کہ جو اس سے مشت زنی کی حرمت کواس سے خاص کرتے ہیں اورفرمایا کہ یہ آیت عام ہے اور کتاب وسنت سے اس کی حرمت میں کوئی شک نہیں۔ البتہ جو آپ نے سوال میں ایک اعتراض ذکرکیا ہے وہ قوی ہے کیونکہ مشت زنی کی نظیر وہ نہیں بنتی جواس آیت میں ذکر ہے اور شاید یہی وہ وجہ ہو جو بعض اسلاف نے اس کے جائز ہونے کاکہا ۔واللہ اعلم

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں