فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / جس نے یوم عرفہ کا روزہ قضا کی نیت سے رکھا کیا اسے یوم عرفہ کا روزہ رکھنے کا ثواب حاصل ہوگا ؟

جس نے یوم عرفہ کا روزہ قضا کی نیت سے رکھا کیا اسے یوم عرفہ کا روزہ رکھنے کا ثواب حاصل ہوگا ؟

تاریخ شائع کریں : 2017-02-27 | مناظر : 1931
- Aa +

جس نے یوم عرفہ کا روزہ قضا کی نیت سے رکھا کیا اسے یوم عرفہ کا روزہ رکھنے کا ثواب حاصل ہوگا ؟

من صام يوم عرفة بنية القضاء هل يدرك الأجر المترتب على صيام يوم عرفة؟

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

یوم عرفہ کا روزہ نفلی روزوں میں سے سب سے بہتر روزہ ہے یوم عرفہ جیسی فضیلت کسی اور نفلی روزے کی فضیلت منقول نہیں ہے ۔
صحیح مسلم میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( یوم عرفہ کے روزے پر میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ ایک پچلے اور ایک اگلے سال کے گناہوں کا کفارہ ہو ))<1> 
اور یہ دو سال کا کفارہ کی فضیلت بغیر کسی اختلاف کے اس شخص کے لیے ہے جس نے عرفہ کے دن کا نفلی روزہ  رکھا ایمان کے ساتھ اور ثواب کی امید کے ساتھ ۔
لیکن جہاں تک اس شخص کی بات ہے جو عرفہ کے دن کا روزہ قضا کی نیت سے رکھے یا پھر کفارہ یا نذر ( منت مانی تھی ) کی نیت سے رکھے اور ساتھ ہی ساتھ یوم عرفہ کے روزے کی فضیلت حاصل کرنے کے مقصد سے یوم عرفہ کا نفلی روزہ رکھنے کی بھی نیت کرے ۔ تو اس مسئلہ میں علماء کے دو قول ہیں ۔:

پہلا قول :جس نے کسی دن کا روزہ رکھا  اور فرض اور نفل دونوں کی نیت کی تو اسکا روزہ صحیح ہے اور اسکو دونوں نیتوں کا ثواب حاصل ہوگا ۔
پس جس شخص نے یوم عرفہ کا روزہ رکھا اور قضا اور نفل دونوں کی ایک ساتھ نیت کی تو اسکے لیے دوہرا اجر ہے ۔ یوم عرفہ کے روزے کا اجر اور قضا روزے کا اجر ۔
علماء مالکیہ اور شافعیہ کی ایک بڑی جماعت <2>اور ان کے علاوہ کچھ حضرات  اس قول کے قائل ہیں ۔ اور متاخرین میں سے شیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے ۔ فرماتے ہیں : اگر یوم عرفہ کے روزے میں قضا کی نیت کرلے تو اسکو یوم عرفہ کے روزے کا اور قضا روزے کا دونوں کا اجر حاصل ہوگا <3>۔
اور یہی جواب ہمارے شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کے جواب سے بھی مفہوم ہے ۔ فرماتے ہیں : (( اور اگر یوم عرفہ کے دن قضا روزہ رکھ لے اور باقی کے نو دن بھی قضا کے روزے رکھلے تو یہ بہتر ہے )) <4>
اور اس قول کی دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کے روزے کا اجر روزہ رکھنے کے فعل کے ساتھ مخصوص کیا ہے پس اگر کوئی شخص کسی بھی عبادت کی نیت سے اس دن روزہ رکھلے تو اجر ثابت کرنے والی صورت متحقق ہوجائگی ۔
اور یہ مسئلہ تشریک فی النیہ ( نیتوں می شریک ہونا ) یا تداخل فی العبادات کے مفہوم کے تحت داخل ہوجاتا ہے ۔ علماء نے اس کے دو قسمیں ذکر کی ہے:
پہلی قسم : وہ جس میں فعل بذات خود مقصود ہو  اور اس قسم میں کوئی شرکت یا تداخل نہیں ہوسکتی ۔ بلکہ ضروری ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ کیا جائے ۔ جیسے کے ظہر کی سنت مؤکدہ اور مغرب کی سنت مؤکدہ ۔ 
دوسری قسم : وہ ہے جس سے مقصود صرف اسکا عمل میں لانا ہو نہ کہ اسکی ذات مقصود ہو جیسے کے تحیہ المسجد ۔ پس اس حدیث میں : (( جب آپ میں سے کوئی مسجد داخل ہو تو تب تک نہ بیٹھے جب تک دو رکعت ادا نہ کرے <5>
حضور کے فرمان کا مقصود یہ ہے کہ مسجد میں نہ بیٹھے سوائے نماز کے بعد ۔ اور یہ حکم فرض ، نفل مقید اور نفل مطلق سب سے پورا ہوجاتا ہے ۔ اور اسی قبیل سے یوم عرفہ کا روزہ بھی ہے ۔
ہمارے شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں :" پس یوم عرفہ کے روزے سے مقصود یہ ہے کہ آپ اس دن روزے سے ہوں چاہے آپکی نیت ماہانہ تین دن کے روزے کی ہو یا پھر یوم عرفہ کے روزے کی نیت ہو"<6> ۔ 
دوسرا قول : عبادت میں فرض اور نفل دونوں کی نیت جمع کرنا ناجائز ہے ۔ پس جس نے یوم عرفہ کا روزہ رکھا اور قضا اور نفل دونوں کی نیتیں ایک ساتھ کرلی تو اسے یوم عرفہ کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی ۔ کیونکہ یہ فضیلت سوائے نفل کی نیت کے ساتھ روزہ رکھنے سے حاصل نہیں ہوگی ۔ بلکل اسی کیفیت کے ساتھ جس کیفیت کے ساتھ اجر ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ روزہ اس وجہ سے رکھا جائے  کہ یہ یوم عرفہ ہے ۔
اور علماء مالکیہ اور شافعیہ  کی ایک جماعت اور انکے علاوہ کچھ اور حضرات اس قول کے قائل ہیں <7>۔

اس قول کی دلیل: کسی بھی عمل میں نفل اور فرض دونوں کی نیتیں جمع نہیں ہوسکتی کیونکہ دونوں کا حکم الگ الگ ہے ۔
اور دونوں اقوال میں سے زیادہ قریب  قول یہ ہے ۔ واللہ اعلم ۔
کہ جس شخص نے یوم عرفہ کا روزہ رکھا اور قضا اور نفل دونوں کی نیت کی تو  اس شخص کو واجب اور نفل  دونوں کا اجر حاصل ہوگا ۔ اس طرح اسکے قضا اور عرفہ دونوں روزے صحیح ہوجائںگے۔
اور بخاری اور مسلم کی اس روایت سے اس مسئلہ کا استدلال کرنا بھی ممکن ہے۔ جس میں عمر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا (( یقینا سارے اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے ))<8>

 پس جس نے دونوں نیتیں کی یوم عرفہ کے روزے میں تو اسکے لیے اسکی نیت کے مطابق اجر ہے ۔ اور اللہ تعالی کا فضل بہت وسیع ہے ۔
اور جہاں تک انکی اس قول کی بات ہے کے فرض اور نفل کی نیتیں دونوں جمع نہیں ہوسکتی تو یہ قبول نہیں کیونکہ اگر نمازی مسجد میں داخل ہوجائے اور فرض ادا کرے تو اس نے دونوں حکم ادا کیے واجب بھی اور نفل بھی ۔والله أعلم

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

15/12/1434ھ


حوالہ جات :

(1)   - "صحيح مسلم"(1162).

(2)   -  "حاشية الدُّسوقي"(5/96)، "حاشية إعانة الطَّالبين"(2/252)، "الفتاوى الفقهية الكويتية"(2/83).

(3)   - "مجموع فتاوى ابن عثيمين" (20/29)

(4)   -"مجموع فتاوى ابن باز"(15/406)

(5)   –أخرجه البخاري(1167)،ومسلم(714).

(6)   -"مجموع فتاوى ابن عثيمين"(20/13).

(7)   -"بلغة السالك لأقرب المسالك"(1/449)، "مغني المحتاج"(5/186).

(8)   – صحيح البخاري (1)،وصحيح مسلم (4962).

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں